Categories
دیگر نیوز

حالات خراب : طاقتور ترین ملک میں کورونا کے پیش نظر فوج کو طلب کر لیا گیا

راچڈیل (ویب ڈیسک)انگلینڈ میں کورونا وائرس کی شرح میں تیزی کے ساتھ اضافے کے بعد جہاں دوبارہ لاک ڈائون لگایا جا چکا ہے وہیں وائرس کو کنٹرول کرنے کیلئے فوجی امداد پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ کونسل رہنمائوں اور ممبران پارلیمنٹ نے کورونا ٹاسک فورس سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ کورونا وائرس کی موجودہ

صورتحال ہنگامی شکل اختیار کر رہی ہے، برطانیہ میں اس سے قبل کورونا کی پہلی لہر تباہی مچا چکی ہے، دوسری لہر کو تقویت اختیار کرنے سے روکنے کیلئے ہر ممکنہ اقدامات کرنا ہونگے، تازہ ترین جاری ہونیوالے اعدادوشمار کے مطابق 7سے 15نومبر کے درمیان انگلینڈ میں 1ہزار 944 سے زائد نئے کورونا مریض سامنے آئے ہیں جو ایک لاکھ میں سے 784.3 کے مساوی ہیں، ہل سٹی کونسل کے رہنما اسٹیفن بریڈی اور ممبران پارلیمنٹ ڈیم ڈیانا جانسن ، کارل ٹرنر اور ایما ہارڈی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ حکومتی اکابرین سے ملاقات میں فوجی مدد کیلئے تجویز پر غور کیا گیا ہے، کورونا وائرس کے تدارک کیلئے ٹھوس اقدامات کیساتھ فوجیمدد انتہائی اہمیت کی حامل ہوگی، دوسری طرف سیکرٹری صحت میٹ ہنیکوک کا کہنا ہے کہ برطانوی ڈرگ ریگولیٹر اتھارٹی سے منظوری کی صورت میں اگلے مہینے کورونا وائرس کی ویکسین لگانے کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے ملک بھر میں مجموعی طو رپر 20ہزار 252نئے کورونا مریض سامنے آئے ہیں جبکہ دوسری لہر کے دوران ابتک 511افراد انتقال کر چکے ہیں ٹاسک فورس اور ممبران پارلیمنٹ کے درمیان ایک اجلاس میں کورونا وائرس کے دوران تعلیمی اداروں کی بندش‘ پابندیوں اور دیگر امو رپر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے ہل کی ڈائریکٹر پبلک ہیلتھ جولیا ویلڈن کے مطابق شہر کے 97تعلیمی اداروں میں سے 57کیلئے سخت پابندیاں عائد تھیں مگر ایک پرائمری سکول کو مکمل طو رپر بچوں کیلئے بندکر دیا گیا تھا انگلینڈ اور ویلز میں کورونا وائرس کی شرح میں اضافہ حکومت کیلئے باعث تشویش ہے 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *