Categories
دیگر نیوز

پی ڈی ایم جلسوں سے حکومت بوکھلاہٹ کا شکار بن گئی۔۔!!! وزیراعظم سمیت وفاقی وزراء کیا کام کرنے لگے؟ جانی

اسلام آباد (ویب ڈیسک)پی ڈی ایم کے جلسوں سے حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ،وزیر اعظم عمران خان ،وزیر اطلاعات شبلی فراز ،مشیر احتساب شہزاد اکبر،سینیٹر جاوید ،اسد عمر،علی زیدی،معاون خصوصی شہباز گل نے جلسوں کو روکنے کیلئے ٹوئٹر کا سہارا لے لیا۔صرف ایک گھنٹے کے دوران وزیر اعظم سمیت حکومتی ارکان نے پی ڈی ایم

جلسوں کا آڑے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کڑی تنقید کی اور اسے عوام کی صحت سے کھلواڑ قرار دیدیا ۔تفصیلات کے مطابق ہفتہ کے روز وزیر اعظم عمران خان ،شبلی فراز ،شہزاد اکبر اور سینیٹر جاوید نے ٹوئٹر پر اپنے الگ الگ پیغام میں پی ڈی ایم کے جلسوں کو تنقید کا نشانہ بنایا ،ان ٹوئٹس سے واضح ہے کہ اپوزیشن کے جلسوں سے حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔حکومتی ارکان نے اپنے ٹوئٹ پیغام میں اپوزیشن کوجلسہ نہ کرنے کی اپیل کی ہے ۔دوسری جانب اسد عمر نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے جلسوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔دوسری جانب ایک اور خبر کے مطابق وزیر محنت و ثقافت خیبر پختونخوا شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ پشاور میں پی ڈی ایم جلسے کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے، کرونا سے لوگوں کو نقصان پر اپوزیشن کے خلاف مقدمات درج ہوں گے۔نجی ٹی وی چینل کے مطابق شوکت یوسفزئی نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ اپوزیشن کو عوام کی نہیں بدعنوانی بچانے کی فکر ہے، کسی کو عوام کے جان و مال سے کھیلنے نہیں دیں گے، کرونا سے لوگوں کو نقصان پر اپوزیشن کے خلاف مقدمات درج ہوں گے۔شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ پی پی دہرا معیار چھوڑ دے، سندھ میں لاک ڈاؤن اور کے پی میں جلسوں کے اعلان کا کیا مطلب ہے؟ کرونا صورت حال کے پیش نظر اپوزیشن پشاور جلسہ منسوخ کرے، پی ٹی آئی حکومت کے مخالفین بھی اپوزیشن سے جلسہ منسوخ کرنے کا کہہ رہے ہیں۔انھوں نے سوال اٹھایا کیا اپوزیشن رہنماؤں کے اپنے بچے جلسے میں شریک ہو رہے ہیں، یہ صرف دوسروں کے بچوں کو استعمال کرنا چاہتے ہیں؟گزشتہ روز صوبائی وزیر نے اپنے ایک ویڈیو رد عمل میں کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ محمود خان نے اپوزیشن کو کرونا کی صورت حال پر بریفنگ دینے کے لیے وزرا کی کمیٹی تشکیل دی ہم نے اپوزیشن کو دعوت دی مگر انھوں نے بریفنگ لینے سے انکار کر دیا جو انتہائی افسوس ناک اور غیر جمہوری عمل ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *