Categories
صحت

“فالسہ” موسمِ گرما میں پیدا ہونے والی تمام بیماریوں کا معالج بھی دوا بھی

فالسہ سبز پھر سرخ اور آخر میں سیاہی مائل ہو جاتا ہے۔ اس کا ذائقہ ترش اور شیریں ہوتا ہے۔ اس کے پھول زرد ہوتے ہیں۔ اس کا مزاج سرد، دوسرے درجے میں اور تر، درجہ اول میں ہوتا ہے اس کی مقدار خوراک تین تولہ سے ایک چھٹانک تک ہوتی ہے ، اس کے بے شمار فوائد ہیں۔

فالسہ مقوی قلب ہوتا ہے، دل کی شریانوں کی رکاوٹ کو دورکرتا ہے
فالسہ معدہ کی گرمی دور اور جگر کو طاقت دیتا ہے
یہ پیاس کی شدت کو کم کرتا ہے
پیشاب کی جلن کو ختم کرتا ہے
گرمی کے بخار میں فائدہ پہنچاتا ہے
فالسہ کا شربت گرمی کے توڑ کے لئے بے حد مفید ہے
فالسے کی جڑ کا چھلکا سوزاک اور ذیابیطس میں استعمال کرانا مفید ہوتا ہے۔ ( مقدار خوراک ایک ماشہ ہمراہ پانی صبح و شام)
فالسے کے پانی سے غرارے کرنے سے خناق کو فائدہ ہوتا ہے
یہ قے اور دست میں فائدہ پہنچاتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔