Categories
صحت

آئے ہو میری زندگی میں تم بہار بن کے ۔ تین عادات جو آپ کی ازدواجی زندگی کو بہتر اور پرسکون بناتی ہیں

اللہ تعالٰی نے انسان کو زمین پرجوڑوں کی صورت اتارا، میاں بیوی کا رشتہ دیگر رشتوں کی بنیاد بنتا ہے، یہیں سے آگے مزید رشتے پنپتے ہیں ، جن میں اولاد، پھر ان کی اولاد اور پھر مزید آگے خاندان بنتا چلا جاتا ہے۔ اگر یہ رشتہ کمزور ہوگا تو آگے تمام رشتوں میں دراڑ آجائے گی ۔ ہر رشتہ کچھ اصول وضوابط مانگتا ہے ، اس رشتے کے بھی کچھ ایسے ہی اصول ہیں ،

قرآن میں میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے۔ لباس آپ کا سب سے قریبی ہوتا ہے جو آپ کے ساتھ جڑا ہوا ہے جو آپ کے جسم کی ہر خامی کو ڈھانپ لیتا ہے اور آپ کی خوبصورتی کو اجاگر کرتا ہے اسی طرح میاں بیوی کا یہ فرض ہے کہ وہ ایک دوسرے کی خامیوں کو باہر والوں کے سامنے نمایاں نہ کریں بلکہ ایک دوسرے کی خوبیوں کو سب کے سامنے پیش کریں تاکہ دوسرا فریق اس سے خوش ہو اور اس کے دل میں آپ کی قدر بڑھے۔ ورنہ اگر زوجین کے رشتے میں دراڑ آتی ہے تو سب سے پہلے گھر کے بچے اس سے متاثر ہوتے ہیں اور ان کے اندر نفسیاتی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ یہ رشتہ خوف سے آگے نہیں چل سکتا، یہ اعتماد سے آگے بڑھتا ہے۔ اس رشتے میں انا آجائے تو رشتہ ڈگمگا جاتا ہے۔ اس رشتے کو خوشگوار بنانے کے لئے دونوں کو کچھ باتوں کا خیال رکھنا چاہیے یا یوں کہہ لیں کہ کچھ ایسی عادات اپنانی چاہیے کہ جس سے یہ رشتہ مضبوط ہو۔

ایک دوسرے کا احساس پیدا کریں:
میاں بیوی میں جب تک ایک دوسرے کا احساس پیدا نہیں ہوگا ان کا رشتہ چل نہیں سکتا۔ اگر بیوی کسی تکلیف یا پریشانی کا شکار ہے تو شوہر کو اس کا احساس ہونا چاہیے اور اپنی ساری انا کو بالائے طاق رکھ کر اپنی بیوی کی دلجوئی کرنی چاہیے یا اس کا مسئلہ حل کرنا چاہیے۔ اسی طرح اگر شوہر کسی مشکل میں گرفتار ہے تو بیوی کو اس کے احساست یا مشکلات کا خیال ہونا چاہیے اور اس کو اپنی طرف سے کسی قسم کی ٹینشن نہیں دینی چاہیے۔ بلکہ اگر کسی طریقے سے وہ اپنے شوہر کی پریشانی یا کسی قسم کا دکھ یا کوئی مسئلہ ہے اس کو حل کر سکتی ہے تو ضرور اس کی کوشش کرنی چاہیے۔

تحفظ کا احساس:
میاں بیوی کا رشتہ اعتماد اور تحفظ کا متقاضی ہوتا ہے جب تک ایک دوسرے پر پورا اعتماد یا بھروسہ نہیں ہو گا، اس رشتے میں خوبصورتی پیدا نہیں ہوگی۔ شوہر کو خاص کر ایسا ہو نا چاہیے کہ اس کے ساتھ رہ کر عورت کو تحفظ کا احساس ہو، اس کو یہ ڈر نہ ہو کہ کوئی بھی میرے شوہر کے کان بھرے گا اور میرا شوہر مجھے ہاتھ پکڑ کر گھر سے نکال باہر کرے گا۔ چاہے وہ دوسرا کوئی گھر سے باہر کا شخص ہو یا گھر کے اندر شوہر کی ماں بہنیں ، بھائی یا کوئی بھی رشتے دار۔ ایک دوسرے کی بات کا بھروسہ بہت اہم ہے۔

ایک دوسرے کو سراہیں:
ہر شخص کی یہ نفسیات ہوتی ہے کہ وہ اپنی تعریف سے خوش ہوتا ہے۔ عورت ہو یا مرد اگر اس کی تعریف کر دی جاتی ہے تو اس کا موڈ خوشگوار ہوجاتا ہے، اسی لئے اچھے رشتے کے لئے ضروری ہے کہ ایک دوسرے کی تعریف ضرور کی جائے کبھی کبھار کی یہ تعریف اس رشتے کو بوسٹ کر دیتی ہے، دیکھا یہ گیا ہے کہ ایک دوسرے پر بے جا تنقید تو ضرورکر دی جاتی ہے لیکن تعریف کرنے میں کنجوسی سے کام لیا جاتا ہے۔ اگر بیوی نے نئے کپڑے پہنیں ہیں یا کچھ میک اپ کر کے تیار ہوئی ہے تو اس کی تعریف ضرور کریں ، کبھی اس کے کھانے کی تعریف کردیں ، کبھی گھر کا خیال رکھنے پر اس کی تعریف کر دیں ۔ یقین کریں اس سے بیوی کا حوصلہ بڑھے گا اور وہ زیادہ دلجمعی سے آپ کا خیال رکھے گی، ہر وقت بیوی پر رعب جما کر اس کو ڈرا کر رکھنے سے آپ کی عزت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا، بلکہ آپ کا پیار آپ کی محبت اس کو تسخیر کرتی ہے۔ اسی طرح بیوی کو بھی اپنے شوہر کی تعریف کرتے رہنا چاہیے، کبھی اس کی شخصیت کی، کبھی اس کے احساسِ ذمہ داری کی ، کبھی اس کے کام کی ۔۔آپ کی یہ تعریف آپ کے شوہر کے دل میں آپ کی عزت اور بڑھا دے گی۔ صرف یہ نہیں سوچیں کہ آپ کی ہی تعریف کی جائے۔ بلکہ آپ کا شوہر بھی اس بات کو پسند کرے گا کہ اس کی بیوی اس کی تعریف کرے۔
یہ وہ کچھ باتیں ہیں جو ازدواجی زندگی کی خوبصورت کو بڑھا دیتی ہیں۔ اور آپ کے رشتے کو مضبوط بناتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔