Categories
News

قبلائی خان: منگول خاندان کے وہ فرمانروا جنھوں نے چین پر قبضہ بھی کیا اور اسے دنیا سے بھی ملایا

قبلائی خان نے جسے مغرب میں اکثر قبلا خان بھی کہا جاتا ہے سنہ 1260 میں چین کے شاہی تخت پر قبضہ کر کے وہاں 34 سال تک حکومت کی تھی۔ اس دوران وہ ایسے فاتح کے نام سے مشہور ہوا جو ثقافت کا بھی شوق رکھتا تھا۔ لیکن اسے اپنی خاندانی ساکھ کا بھی خیال تھا جو کہ بس حملے کرنا اور لڑنا تھی۔ وہ چنگیز خان کا پوتا تھا، جو امن کی کوششوں کے بجائے اپنے مخالفین کی ایک بڑی تعداد کو قتل کرنے کے لیے بہت مشہور تھے۔

تیرہویں صدی کے اوائل تک چنگیز خان کی سلطنت اتنی بڑی سلطنت بن چکی تھی جتنی بڑی یوریشیائی براعظم نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی اور نہ ہی آج تک دیکھی ہے۔ تاہم قبلائی خان نے لطیف اور سوچ سمجھ کر حکومت چلانے والے حکمراں کی ساکھ بنائی جو ان کے دادا کی قتل و غارت والی ساکھ سے قدرے مختلف تھی۔ لیکن ایسا اچانک نہیں ہوا تھا۔

چینگیز خان کی جنگوں اور وسیع منگول فتوحات کو دیکھ کر سمجھ آتا ہے کہ کیسے حکمران قرون وسطی کے یوریشیا میں اتحاد بدل کر تبدیلی کا نیا راستہ بناتے تھے۔ 13 ویں صدی کے وسط میں منگولوں نے چینی سونگ خاندان کے ساتھ مل کر اپنے باہمی دشمن جورچن کے خلاف کامیاب اتحاد بنایا۔

لیکن جب انھوں نے جورچن لوگوں کو شکست دی تو پھر وہ سونگ کے بھی خلاف ہو گئے۔ چنگیز خان کا انتقال 1227 میں ہوا تھا اور مختلف جانشینوں کے بعد ان کے پوتے قبلائی خان کی باری آئی کہ وہ اب فتوحات کے مشن کو آگے بڑھائیں۔

اگر دیکھا جائے تو صدی کے وسط میں چین کے اکثر حصے کا کنٹرول منگولوں کے پاس تھا اور 1268 اور 1273 کے درمیان قبلائی کے کمانڈنگ جنرل نے، جو بذاتِ خود منگول نہیں بلکہ چینی تھے، وسطی چین کے جدید صوبے ہوبے میں سانگ خاندان کے گڑھ کا محاصرہ کر کے اسے فتح کیا تھا۔ جب شہر سانگ خاندان کے ہاتھ سے جاتا رہا تو اس کے ساتھ ہی نسلی اعتبار سے چینی سونگ خاندان کی بقا کا آخری موقع بھی ختم ہوا۔

نسلی طور پر چینی اصطلاح اس لیے استعمال کی گئی ہے کیونکہ اس وقت تک چین میں ایک اور خاندان بھی حکومت بنا چکا تھا جسے دراصل منگولوں نے بنایا تھا۔

سنہ 1271 میں تخت پر تقریباً ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قابض رہنے کے بعد قبلائی خان نے یوان خاندان کی حکومت کا باضابطہ طور پر اعلان کیا۔ غیر معمولی طور پر انھوں نے اپنا لقب گریٹ خان (عظیم خان) ہی رکھا جس سے چاہے برائے نام ہی سہی یوریشیا میں دوسرے خاندانوں پر ان کا اثر و رسوخ تو قائم رہا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے