Categories
News

فلسطین، اسرائیل تنازع: لُد شہر میں ہنگامی صورتحال نافذ، غزہ میں اسرائیلی حملے کے جواب میں تل ابیب پر ’130 راکٹ فائر!

اسرائیلی فوج اور فلسطینی عسکریت پسندوں کے مابین تنازعہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے جس کے بعد اسرائیل نے مرکزی شہر لد میں ہنگامی صورتحال کا اعلان کیا ہے۔

لد میں گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی اور جھڑپوں میں کم از کم 12 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جس کے بعد لد کے میئر نے اس صورتحال کو خانہ جنگی سے تشبیہ دی ہے۔

فلسطینی عسکریت پسندوں نے اسرائیل کی طرف سینکڑوں راکٹ فائر کیے جبکہ اسرائیل نے غزہ پر فضائی حملے کیے ہیں۔

پیر سے شروع ہونے والے فریقین کے یہ حملے منگل کے دن اور رات کو بھی جاری رہے اور ان کارروائیوں میں اب تک دس بچوں سمیت 28 فلسطینی، دو اسرائیلی شہریوں سمیت 31 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ اسرائیلی حملوں میں 150 سے زیادہ فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔

لد میں کیا ہوا؟

اسرائیل میں مقیم عرب شہریوں کی جانب سے تل ابیب کے قریب واقع شہر لد میں مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس کا جواب دستی بموں سے دیا گیا۔

یہ احتجاج ایک دن قبل شہر میں جاری بدامنی کے دوران مرنے والے ایک شخص کے جنازے کے بعد شروع ہوا۔

اسرائیلی اخبار ہارٹیز کے مطابق جھڑپوں میں کم از کم 12 افراد زخمی ہوئے۔ پولیس نے بتایا کہ رات ہوتے ہی لد میں صورتحال مزید خراب ہو گئی۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہودیوں کی عبادت گاہوں اور متعدد کاروباروں کو نذر آتش کر دیا گیا جبکہ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہودیوں کی جانب سے ایک کار پر پتھراؤ کی اطلاعات بھی ہیں جسے ایک عرب باشندہ چلا رہا تھا۔

منگل کی رات اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے لد میں حالت ہنگامی حالت کا اعلان کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے