Categories
Technology

ہماری کائنات میں ہماری توقعات سے زیادہ بلیک ہول ہیں؟

روم: اطالوی اور برطانوی ماہرین کی ایک مشترکہ ٹیم نے اندازہ لگایا ہے کہ ہماری قابلِ مشاہدہ کائنات میں ایسے 40 ارب ارب (یعنی 40,000,000,000,000,000,000) بلیک ہولز موجود ہیں جن کی کمیت ہمارے سورج کے مقابلے میں پانچ سے 10 گنا زیادہ ہے۔

اس طرح کے بلیک ہولز کو فلکیات کی زبان میں ’اسٹیلر بلیک ہولز‘ یعنی ’ستاروں سے بننے والے بلیک ہولز‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ سورج سے کئی گنا بڑے ستاروں کے ’مرنے‘ سے وجود میں آتے ہیں۔ بظاہر سادہ اور آسان نظر آنے والا یہ تخمینہ کائنات سے متعلق جدید ترین سائنسی نظریات، کئی عشروں پر پھیلے ہوئے فلکیاتی مشاہدات، اور ’بگ ڈیٹا‘ کے طاقتور ٹولز استعمال کرتے ہوئے لگایا گیا ہے جس میں ماہرین کو کئی سال لگ گئے۔ واضح رہے کہ یہ تخمینہ دسمبر 2020 میں پیش کیا گیا تھا لیکن تب اسے پری پرنٹ سرور ’آرکائیو ڈاٹ آرگ‘ پر شائع کرکے ’ایسٹرو فزیکل جرنل‘ میں اشاعت کےلیے بھیج دیا گیا تھا۔ ایک سال کی محتاط نظرِ ثانی اور تنقید کے بعد اب یہ ریسرچ پیپر ’ایسٹرو فزیکل جرنل‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن بھی شائع کردیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہماری قابلِ مشاہدہ کائنات کو کسی بہت بڑے گولے سے تشبیہ دی جائے تو اس گولے کا قطر لگ بھگ 90 ارب نوری سال ہوگا۔

اس لحاظ سے ہماری پوری (قابلِ مشاہدہ) کائنات کا حجم 381,704 نوری سال بنتا ہے جس کے ہر ایک ارب نوری سال میں تقریباً 105 کھرب بلیک ہولز موجود ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح اگر پوری کائنات میں کہکشاؤں کی مجموعی تعداد کے تازہ ترین تخمینے (2,000 ارب کہکشاؤں) کو بنیاد بنایا جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر کہکشاں میں دو کروڑ کے لگ بھگ ایسے بلیک ہولز ہوں گے جو دیوقامت ستاروں کے خاتمے سے بنے ہوں گے۔ یاد رہے کہ ان میں وہ عظیم و جسمیم ’سپر میسیو بلیک ہولز‘ شامل نہیں جن میں سے ہر ایک کی کمیت ہمارے سورج سے کروڑوں اربوں گنا زیادہ ہوتی ہے؛ اور جو ہماری ملکی وے کہکشاں سمیت، بیشتر کہکشاؤں کے عین مرکز میں پائے جاتے ہیں۔ اپنی ارد گرد زبردست سرگرمیوں کی وجہ سے انہیں ’کہکشاؤں کے سرگرم مرکزے‘ (ایکٹیو گیلیکٹک نیوکلیائی) یا مختصراً صرف ’اے جی این‘ (AGN) بھی کہا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔