Categories
Totkay

ہومیوپیتھی پر سائنسی تحقیقات

ایک طویل مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ ہومیوپیتھی پر بیشتر سائنسی تحقیقات میں جانب داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے، مثبت نتائج پیش کرنے پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ آج بھی دنیا میں کروڑوں لوگ جدید طب (ماڈرن میڈیسن) یعنی ایلوپیتھی کے مقابلے میں ہومیوپیتھی پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں لیکن سنجیدہ طبّی ماہرین کو اس طریقہ علاج پر شدید اعتراضات بھی ہیں۔

یہ ماہرین ہومیوپیتھی کو نہ صرف غیر سائنسی قرار دیتے ہیں بلکہ یہاں تک کہتے ہیں کہ ہومیوپیتھک دواؤں کا اثر محض نفسیاتی (پلاسیبو) ہوتا ہے جبکہ وہ حقیقی معنوں میں مریض کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتیں۔
پچھلے سو سال کے دوران ہومیوپیتھی طریقہ علاج کی سچائی معلوم کرنے کےلیے سیکڑوں سائنسی تحقیقات ہوچکی ہیں لیکن اب تک ہومیوپیتھی کے اصل یا جعلی ہونے کا حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا ہے۔

نئے مطالعے میں امریکا اور آسٹریا کے ماہرین نے گزشتہ بیس سال میں ہومیوپیتھی پر کی گئی درجنوں سائنسی تحقیقات میں اختیار کیے گئے طریقوں اور پیش کردہ نتائج کا بہت باریک بینی سے جائزہ لیا ہے۔ جائزے سے معلوم ہوا کہ 2000 سے 2013 کے دوران ہومیوپیتھی طریقہ علاج کی باضابطہ (رجسٹرڈ) طبّی آزمائشوں (رینڈمائزڈ کلینیکل ٹرائلز یا RCTs) میں سے صرف 46 فیصد کے نتائج ہی شائع کروائے گئے۔ ہومیوپیتھی کے بارے میں شائع شدہ لیکن رجسٹریشن کے بغیر انجام دی گئی طبّی آزمائشوں کی شرح اب تک نامعلوم ہے۔ اس مطالعے میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ہومیوپیتھی سے متعلق 91 فیصد طبّی آزمائشیں یا تو غیر شائع شدہ ہیں (38 فیصد) یا پھر ان کی رجسٹریشن ہی نہیں کروائی گئی (53 فیصد)۔

علاوہ ازیں، رجسٹرڈ کلینیکل ٹرائلز میں سے 75 فیصد کے ابتدائی نتائج میں یا تو جزوی ترمیم کی گئی یا پھر وہ مکمل طور پر ہی تبدیل کردیئے گئے۔ رجسٹریشن کے بغیر کی گئی طبّی آزمائشوں میں علاج کے اثرات زیادہ نمایاں اور اکثر مثبت دیکھے گئے۔ اس مطالعے کی روشنی میں ماہرین نے کہا ہے کہ ہومیوپیتھی کے بارے میں طبّی آزمائشوں کے شائع شدہ نتائج اصل تحقیقات کا منتخب حصہ ہیں جن میں مثبت نتائج ہی زیادہ بیان کیے گئے ہیں۔ اگرچہ اس مطالعے میں ماہرین نے ہومیوپیتھی طریقہ علاج کو جعلی تو قرار نہیں دیا ہے لیکن اتنا ضرور کہا ہے کہ ہومیوپیتھی دواؤں کی طبّی آزمائشوں کے نتائج ترتیب دیتے وقت جانتے بوجھتے ہوئے جانب داری کا مظاہرہ کیا گیا ہے اور مثبت نتائج پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ لہٰذا، ان پر بھروسہ کرنے یا انہیں قابلِ اعتماد قرار دینے میں بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ اس مطالعے کی تفصیلات ’’بی ایم جے ایویڈنس بیسڈ میڈیسن‘‘ کے تازہ شمارے میں آن لائن شائع ہوچکی ہیں جنہیں کوئی بھی بغیر معاوضے کے پڑھ سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔