Categories
صحت

مسور دال کے فائدے : جوانی میں نہیں آنے دیے گی بڑھاپا

دنیا کے سبھی ملکوں میں طرح طرح کی دالوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ہندوستانی کھانے میں دال کو خاص جگہ دی گئی ہے۔ مانا جاتا ہے کہ دال کو کسی بھی طرح سے لیا جائے۔ وہ فائدے مند ہی ہوتی ہے۔ آج ہم بات کررہے ہیں مسور دال کی۔ جسے عام طور پر لال مسور کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ توانائی اور غذائیت سے بھرپور ہوتی ہے اور اسکے فائدے زبردست ہیں۔


مسور دال کا نباتاتی نام لینس اسکولینٹا ہے اسکی نوعیت خشک ، گرم اور خون کا گاڑھاپن لانے والی ہوتی ہے۔ مسور دال کا استعمال اسہال، قبض اور ہاضمہ کے عمل میں مسور دال کا استعمال فائدہ مند ہے۔
پچھلے کچھ دہائیوں میں اپنے خاص فائدوں کی وجہ سے مسور دال ہندوستانی کھانوں کا ایک اہم حصہ بن گئی ہے۔ اس بات کا امکان سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایک کٹوری مسور دال پورے کھانے اور غذائیت سے متعلق مانگوں کو پورا کرسکتی ہے۔ یہ دال سبھی کے جسم اور صحت پر الگ الگ طرح سے فائدے مند اثر دیکھاتی ہے۔
اسے بنانا بہت آسان ہے۔ اسے اسکے مزے کی وجہ سے دیگر سبھی دالوں سے الگ اور سب سے زیادہ مزیدار مانا جاتا ہے۔ اپنے ذائقہ کے مطابق ہم اس میں الگ الگ مسالے ڈال کر پکا سکتے ہیں۔ ایک کپ مسور دال میں 230 کیلوری ہوتی ہے۔ تقریبا 15 گرام غذائی فائبر اور تقریبا 17 گرام پروٹین ہوتا ہے۔ آئرن اور پروٹین سے بھرپور ہونے کی وجہ سے یہ دال سبزی خور لوگوں کے لیے ایک آئیڈل چوائس ہے۔ الگ طرح کے ذائقہ اور غذائی فائدوں کی وجہ سے اسے اپنی بیلینس ڈائٹ میں شامل کرنا چاہئیے۔


بلڈ شوگر لیول کو مینٹین رکھنے میں مدد کرتی ہے
مسور دال میں فائبر بھرپور مقدار میں پایا جاتا ہے۔ یہ گلائیسیمیک انڈیکس میں نیچے کے مقام پر آتا ہے۔ جو چھوٹی آنت میں کھانے کے خونسکھانے کی مقدار کو روکتا ہے۔
یہ عمل انہضام کی شرح کو آہستہ کردیتا ہے اور بلڈ شوگر کے لیول کو اچانک یا ناپسندیدہ بدلاؤ سے بچاتا ہے۔ اس لیے جن لوگوں کو شوگر، ذیابطیس اور انسولین کی تیاری میں کمی کی پریشانی ہوتی ہے۔ انہیں اس دال کو روزآنہ کھانا چاہیئے۔
وزن کم کرنے میں بھی موثر
وزن کم کرنے والی زیادہ تر ڈائٹ میں مسور دال کو ایک بہترین حصہ مانا جاتا ہے۔ اس میں اطمینان کا احساس دلانے والے کاربوہائیڈریٹ کی صحیح مقدار تو ہوتی ہی ہے، وہیں فیٹ کافی کم ہوتا ہے۔
اس میں موجود ہائی فائبر کی مقدار ہاضمے کے عمل کو سست کردیتی ہے، جو وزن کم کرنے میں کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ روزآنہ اپنے کھانے میں ایک کپ مسور دال کا استعمال، وٹامن، پروٹین اور دیگر غذائی اجزاء کو حاصل کرنے کے لیے کافی ہے۔
ہڈیوں اور دانتوں کو تغذیہ دیتا ہے
مسور کی دال وٹامن اور دیگر غذائی اجزاء جیسے کیلشیم اور میگنیشیم کا ایک بھر پور ذریعہہے۔جو صحت مند دانتوں اور ہڈیوں کو بنائے رکھنے کے لیے اہم ہیں۔ مسور دال کے فائدے لینے کے لیے اسے اپنی ڈیلی ڈائٹ میں ضرور شامل کریں۔


کولیسٹرول کم کرکے ہاٹ کو رکھتا ہے صحت مند
ڈائٹری فائبرکی زیادہ مقدار ہونے کی وجہ سے مسور دال جسم میں کولیسٹرول کی مقدار کو مؤثر طریقے سے کم کرتا ہے۔ یہ جسم میں اضافی کولیسٹرول سے چھٹکارا پانے میں بھی مدد کرتا ہے۔ یہ بلڈ کی فراہمی کو بڑھاتا ہے اور ہارٹ فیلیر کے رسک کو کم کرتا ہے۔
زیادہ کھانے سے ہوتے ہیں (مضر اثرات) سائیڈ ایفکٹ
مسور دال سے کوئی بڑا سائیڈ ایفکٹ نہیں ہوتا ہے۔ لیکن سچائی یہ بھی ہے کہ ایک ہی وقت میں کسی بھی چیز کا زیادہ استعمال مشکلیں بڑھا سکتا ہے۔ مسور دال کے زیادہ استعمال سے کڈنی کی بیماری، پوٹاشیم گیس کی زہر آلودگی اور ہائی امینو ایسڈ پیدا ہونے کے مضر اثرات بھی ہوسکتے ہیں۔ کچھ لوگوں میں یہ الرجی کے طور پر بھی ابھر سکتا ہے۔
کمزوری کو دور کرتی ہے
مسور دال جسمانی کمزوری دور کرنے کے ساتھ ساتھ خون بڑھانے کا بھی کام کرتی ہے۔ ایسے میں جس بھی شخص میں کمزوری یا پھر خون کی کمی ہو تو اسے چاہیے کہ دال کا استعمال باقاعدگی سے کریں۔


سپرم کوالٹی کو ٹھیک کرتی ہے مسور دال
مسور دال میں فولک ایسڈ پایا جاتا ہے۔ یہ مردانہ زرخیزی کے لیے کافی ایکٹیو طور پر کام کرتا ہے۔ کچھ مرد سپرم کوالٹی کے لیے اس دال کا پانی پینا پسند کرتے ہیں۔
جلد کے امراض میں فائدہ مند
اگر آپ کے چہرے پر دھبے ہیں اور آنکھوں میں سوجن جیسا مسئلہ ہے تو آپ کو مسور دال کا استعمال کرنا چاہیئے۔ مسور کی دال جلد میں ہونے والی بیماریوں سے بچاتی ہے۔
کمر اور پیٹھ کے درد کا علاج
اس کا باقاعدگی سے استعمال آپ کو کمر اور پیٹھ کے درد سے آرام دلائے گا۔ کمر کے درد سے راحت کے لیے مسور کو سرکہ کے ساتھ پیس لیں۔ پھر اسے ہلکا گرم کریں اور کمر اور پیٹھ پر لگائیں۔ ایسا کرنے سے بھی فوری آرام ملتا ہے۔


لال مسور دال سے ایسے بنائے فیس پیک
مسور۔چاول-شہد کا فیس پیک
آدھے کپ پانی میں چار چمچ مسور دال کو رات بھر بھگو دیں۔
اگلی دن صبح اسے بلینڈر میں پیس کر پیسٹ بنا لیں۔
اس کے بعد دو چمچ چاول کو پیس کر پاؤڈر بنا لیں۔
دال کے پیسٹ میں ایک چمچ چاول کا پاؤڈر ڈال کر اچھی طرح مکس کریں۔
پھر اس میں ایک بڑا چمچ شہد ملا لیں۔
تینوں چیزوں کو اچھی طرح مکس کر لیں۔
اگر پیسٹ بہت گاڑھا ہو گیا ہو تو اسے ہموار بنانے کے لیے ایک چمچ دودھ بھی ڈال سکتے ہیں۔
اس پیسٹ کو چہرے پر لگائیں اور 20 منٹ تک رہنے دیں۔
پانچ منٹ بعد چہرے پر ہلکا مساج کریں اور پانی سے چہرہ دھو لیں۔
سو 100 گرام دال کے روزآنہ استعمال سے ہمیں 352 کیلوری اور 24.63 گرام یا 44 فیصد پروٹین کی مقدار ملتی ہے۔ تو مسور دال کے مکمل فائدے کا لطف لینے کے لیے اپنے کچن کے سامنوں میں اسے بھی ضرور شامل کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔