Categories
صحت

پیراسیٹامول کے استعمال سے بلڈ پریشر، دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

محققین کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق نے پیراسیٹامول کے بارے میں خطرناک انکشاف کیا ہے کہ جس کا استعمال تقریبا ًہر گھر میں روز ہی کیا جاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ اس دوائی کے باعث بلڈ پریشر میں اضافہ اور دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔اسکاٹ لینڈ کی ایڈنبرا یونیورسٹی کے ماہرین نے ہائی بلڈ پریشر کے 110 مریضوں پر مطالعہ کیا،

جس کے لیئے انہوں نے ایک گرام پیراسیٹامول دن میں چار بار دی۔ مگر اس وقت حیران کن نتائج سامنے آئے جب محققین نے دیکھا کہ چار دنوں کے اندر ان افراد کے بلڈ پریشر میں نمایاں اضافہ ہوا، جس سے دل کا دورہ پڑنے یا فالج کے امکانات 20 فیصد بڑھ گئے۔برطانیہ میں تقریبا 10 میں سے ایک فرد کو دائمی درد کے لیے روزانہ پیراسیٹامول تجویز کی جاتی ہے، جہاں تین میں سے ہر ایک بالغ ہائی بلڈ پریشر کا شکار ہے۔یونیورسٹی کے علاج اور طبی فارماکولوجی کے پروفیسر ڈیوڈ ویب کا کہنا ہے کہ ہم نے ہمیشہ سوچا ہے کہ پیراسیٹامول ایک محفوظ متبادل ہے۔ دل کے دورے یا فالج کے خطرے والے مریضوں میں پیراسیٹامول کا استعمال بند کرنے پر غور کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہاکہ ہم تجویز کریں گے کہ معالجین پیراسیٹامول کی کم خوراک سے شروعات کریں اور مرحلہ وار خوراک میں اضافہ کریں، درد پر قابو پانے کے لیے ضرورت سے زیادہ نہیں جانا چاہیے۔

محققین نے کہا کہ جن لوگوں کو دائمی درد کے لیے پیراسیٹامول کی ضرورت ہوتی ہے، وہ اپنے بلڈ پریشر کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے الگ سے دوائیں استعمال کریں۔این ایچ ایس لوتھیان میں کلینکل فارماکولوجی اور نیفرولوجی کے مشیر ڈاکٹر آئن میکانٹائر نے کہا کہ جو لوگ کبھی کبھار پیراسیٹامول لیتے ہیں انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سر درد یا بخار کے لیے پیراسیٹامول کے قلیل مدتی استعمال کے بارے میں نہیں ہے، مگر طویل مدت تک پیراسیٹامول کو لینا خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔خیال رہے کہ پاکستان بھر میں پیراسیٹامول کا استعمال ہر گھر میں کیا جاتا ہے۔ یہ گولی کئی گھروں کے ماہانہ راشن کا حصہ ہے۔ خواتین میں اس کا استعمال بہت زیادہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔