Categories
صحت

سفید چینی۔۔۔ ایک میٹھا زہر

آج کل چینی ضروریات زندگی کا لازمی جزو بنا لیا گیا ہے ،جس کے مثبت کے بجائے منفی اثرات زیادہ ہیں۔ یہ ہمارے جسم کیلئے اتنی ہی خطرناک ہے جتنا کہ تمباکو۔ چینی سے حاصل ہونے والی کیلوریز، جسم کیلئے نقصان دہ چربی بنانے کا باعث بنتی ہے جو جگر، دل، گردوں اور دیگر مختلف بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔ زیادہ چینی کھانے والے افراد کا رویہ جارحانہ اور غصے والا ہوجاتا ہے۔ سفید چینی کھانے کے کیا کیا نقصانات ہیں، آئیے آپ کو بتاتے ہیں:

موٹاپے کا سبب
چینی ہمارے جسم میں داخل ہوتے ہی جسم میں پہلے سے موجود چربی کی خوراک بن جاتی ہےاور تیزی سے اس چربی کا حصہ بن جاتی ہے۔ زیادہ چینی کھانے سے جسم میں کولیسٹرل کی مقدار بڑھنے کے ساتھ ساتھ خون میں چربی کی مقدار بڑھادیتی ہے جس سے وزن میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔
ذیابیطس اور دل کے امراض کا باعث
چینی کا حد سے زیادہ استعمال ذیابیطس میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ ذیابیطس کے ساتھ ساتھ دل کی متعدد بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔ خون میں انسولین کی مقدار بڑھنے سے شریانوں کا نظام متاثر ہوتا ہے جو ہائی بلڈپریشر اور فالج کا باعث بنتا ہے۔اس کے ضرورت سے زیادہ استعمال سے ٹرائی گلیسرائیڈز میں بھی اضافہ شامل ہے۔

قوت مدافعت میں کمی
سفید چینی کا حد سے زیادہ استعمال قوت مدافعت میں کمی کا باعث بن جاتا ہے جو مختلف بیماریوں سے مقابلہ کرنے کی سکت کم کردیتاہے۔ بہت زیادہ کمزوری، مسلسل نقاہت اور سارا دن تھکاوٹ، اس بات کی علامت ہے کہ چینی کا حد سے زیادہ استعمال کیا جارہا ہے۔ مدافعتی نظام کمزور پاکر مختلف وائرس بآسانی حملہ آور ہوسکتے ہیں۔

چڑچڑا پن اور مایوسی
میٹھی اشیاء کھانے سے فوری توانائی تو مل جاتی ہے، مگر توانائی ختم ہونے کی صورت میں انسان ڈپریشن اور جسمانی نقاہت محسوس کرنے لگتا ہے۔ زیادہ چینی استعمال کرنے والے افراد اگر چند روز تک چینی نہ کھائیں تو چڑچڑا پن اور سردرد محسوس کریں گے۔ یہ بڑھاپے کے عمل کو تیز کرنے کا باعث بھی بنتی ہے۔
نظام انہضام پر اثر
نظام انہضام پر بھی چینی کے بُرے اثرات رونما ہوتے ہیں۔ زیادہ چینی کا استعمال معدے میں بیماریوں کا باعث بننے والے بیکٹیریا کی افزائش کی وجہ بنتی ہے، جو نظام انہضام پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر اپنی زندگی سے چینی کو مکمل طور پر نکال دیں تو حیرت انگیزطور پر تبدیلیاں رونماہوسکتی ہیں اور آپ کی صحت پر اس کے شاندار نتائج رونما ہوسکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔