Categories
Totkay

سونے سے قبل کیلے کی چائے پینے کے ایسے فائدے جو آپ نہیں جانتے

رات کی پرسکون نیند ایک نعمت سے کم نہیں ہوتی ہے۔ ایک اچھی اور پرسکون نیند سے نہ صرف انسان کا جسم صحت مند رہتا ہے بلکہ اس کو اگلے دن کام کرنے کی طاقت بھی ملتی ہے-انسان کی قوت فیصلہ اور کارکردگی کی بہتری کے لیے رات کی پرسکون نیند بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے جو اس کے اعصاب کو پر سکون رکھتی ہے- یہی وجہ ہے کہ جو افراد رات میں آرام سے سو نہیں پاتے ہیں وہ پرسکون نیند کے لیے اعصاب کو پرسکون رکھنے کے لیے نیند کی گولی لیتے ہیں-

نیند کی گولی عارضی طور پر تو سلا دیتی ہے مگر اس کے ضمنی اثرات صحت کے لیے بہت خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اس سے ایک جانب اگلی صبح انسان کی طبعیت بوجھل رہتی ہے اور دیرپا اثرات میں یہ دل کو کمزور کرنے کا سبب بھی بن سکتی ہے- اس کے علاوہ اس کی عادت ہونے کے سبب انسان کے لیے اس کے بغیر سونا بہت مشکل ہو جاتا ہے-ایسے تمام افراد جو نیند کی گولی کے بغیر نہیں سو سکتے ہیں یا جن کو رات میں سونے میں دشواری پیش آتی ہو تو ایسے تمام افراد کے لیے کیلے کی چائے ایک ایسا مجرب نسخہ ہے جس کا سونے سے قبل استعمال نہ صرف پرسکون نیند کا ضامن ہو سکتا ہے بلکہ کسی بھی قسم کے ضمنی اثرات سے بھی پاک ہوتا ہے- کیلے کی چائے بنانے کا طریقہکیلے کی چائے بنانے کا طریقہ بہت آسان ہے اس کے لیے صرف ایک کیلا، ایک چمچ دارچینی اور ایک کپ پانی درکار ہوتا ہے۔ اس کے لیے کیلے کے دونوں سرے کاٹ لیں اس کے چھلکے اتارنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اس کے بعد کٹے ہوئے کیلے ایک برتن میں ڈال دیں۔ اور ان کے اوپر دارچینی چھڑک دیں۔ ایک کپ پانی ڈال کر اس کو چولہے پر ہلکی آنچ پر پکنے کے لیے چھوڑ دیں یہاں تک کہ چھلکے کیلے سے جدا ہوجائيں۔ اس کے بعد ایک چھاننی میں اس کو اچھی طرح سے چھان لیں اور سونے سے بیس منٹ قبل اس کو پی لیں-کیلے کی چائے کے فوائدکیلے کے اندر امائنو ایسڈ اور ٹریپٹوفان نامی کیمیکل موجود ہوتے ہیں جو کہ دماغ میں سونے کا سبب بنے والے ہارمون پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں جب کہ کیلے کے ساتھ دارچینی کے ملاپ سے نہ صرف ہاضمہ بہتر ہوتا ہے اور دوران خون میں بہتری آتی ہے بلکہ اس سے اسٹریس ہارمون کارٹی سول کی مقدار میں بھی کمی واقع ہوتی ہے جس سے اعصاب پر سکون ہوتے ہیں اور رات میں بہترین نیند آتی ہے-اس چائے کے استعمال سے نہ صرف نیند کی گولی کے استعمال کو ترک کیا جا سکتا ہے بلکہ اس سے صحت کے کئی مسائل بھی حل ہو سکتے ہیں-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔