Categories
Uncategorized

کولیسٹرول کی مکمل صفائی“ جانیےکیسے

کولیسٹرول چربی کی ایک قسم ہے جس کی مناسب مقدار کا جسم میں ہونا ضروری ہے ایک نارمل آدمی کے جسم مکں کولیسٹرول کی مقدار تقریباً سو گرام یا اس سے تھوڑی سی زیادہ ہوتی ہے کولیسٹرول جسم میں بنتا اور جمع ہوتا ہے اس کی مناسب مقدار جسم میں ضروری ہارمونز پیدا کر نے کے لیے اور نظام ہضم میں مدد دینے کے لیے ضروری ہے مثلاً گوشت انڈے دودھ مکھن اور گھی وغیرہ میں کولیسٹرول کی خاصی مقدار پائی جاتی ہے اس طرح کی غذا کھانے سے خون میں کولیسٹرول کی مقدار بڑھ جاتی ہے

جب خون میں کولیسٹرول کی مقدار حد سے بڑھ جائے تو پھر یہ خون کی نالیوں کے اندرونی حصے میں جمع ہو کر اور چکنائی کہ تہیں بنا کر خون کے نارمل بہاو میں رکاوٹ پیدا کرکے ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتا ہے جس سے فوری موت بھی واقع ہو سکتی ہے کولیسٹرول کا لیول جسم میں کولیسٹرول اوت مختلف قسم کے لیپوپروٹینز اور چکنائی کی مقدار معلوم کرنے کے لیے خون کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے اسے لیپڈ پروفائل کا نام دیا جاتا ہے اس ٹیسٹ کو کروانے کے لیے کم از کم بارہ گھنٹے بھوکا رہنا ضروری ہے تبھی خون میں کولیسٹرول کی مقدار کا صحیح پتہ چلتا ہے ایک تندرست انسان کا لیپڈ پروفائل یہ ہوتاہے کولیسٹرول 200-120ملی گرام/ڈیسی لیٹر ایچ ڈی ایل 52-41 ملی گرام/ڈیسی لیٹر ایل ڈی ایل 188-108 ملی گرام/ڈیسی لیٹر ٹرائی گلیسرائیڈز 150 ملی گرام ڈینگی بخار یا بریک بون فیور کی علامات بچاو اور احتیاطی تدابیرکولیسٹرول کی اقسام اور ان کا کام کولیسٹرول خون میں گرش کرتاہے جسم میں موجود چکنائی اور پروٹینز کے چھوٹے چھوٹے مرکبات کولیسٹرول کو اس کے استعمال کی۔جگہ پر لے جاتے ہیں

ان مرکبات کو لیپو پرٹینز کہتے ہیں اس کی اقسام وی ڈی وی ایل یعنی ویری لو ڈینسٹی لیپو پروٹینز؛ ایل ڈی ایل یعنی لو ڈینسٹی لیپو پروٹینز؛ ایچ ڈی ایل یعنی ہائی ڈینسٹی لیپو پروٹینز ہیں ایل ڈی ایل اور وی ایل ڈی ایل جسم میں موجود کولیسٹرول کو جسم کے مختلف حصوں تک پہنچاتے ہیں جبکہ ایچ ڈی ایل اصل خون میں موجود کولیسٹرول کو کم کرنے کا کام کرتے ہیں کیونکہ یہ جسم سے زیادہ کولیسٹرول کو جگر تک پہنچاتے ہیں جہاں سے وہ صفرا وغیرہ بنانے کے کا آتا ہے اگر خون میں ایل ڈی ایل اور وی ایل ڈی ایل کی مقدار زیادہ ہو گی تو پھر کولیسٹرول کی۔زیادہ مقدار خون میں شامل ہو کر شریانوں کو تنگ کرنے کا باعث بنے گا مرغن غذائیں یو کولیسٹرول والی زیادہ خوراک کھانے سے جسم میں مختلف قسم کی چربی بھی زیادہ ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے خون کی نالیوں میں کلوٹ آنے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے بیسن اور بیسن کی روٹی کے حیران کین طبی فوائد خون میں کولیسٹرول کی مقدار بڑھانے والے عوامل خون میں کولیسٹرول کی زیادتی کے باعث دل کے دورے

کے امکانات آٹھ سے دس گنا بڑھ جاتے ہیں خون میں کولیسٹرول زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ اگر سگریٹ نوشی یا شراب نوشی کی بھی لت ہو تو پھر ہر وقت دل کے دورے کا خطرہ رہتا ہے زیادہ کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈ دل کو خون پہنچانے والی نالیوں میں کلوٹ بن کر دل کو خون کی سپلائی بند کرنے کا سبب بن سکتے ہیں موٹاپے کے ساتھ اگرذیابیطس بھی ہو تو دل کے دورے کے امکانات اوت بھی بڑھ جاتے ہیں خون میں کولیسٹرول۔لیول کم کرنے کی آسان تراکیب کولیسٹرول کی۔ خون میں زیادتی خطرناک تو ہوتی ہی ہے لیکن اس کے ساتھ یہ خون کی۔شریانوں میں کلوٹ یا پلاک بن کر جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ طرز زندگی میں مثبت تبدیلی اور کھانے پینے میں اعتدال کر کے نہ صرف اس پر قابو پایا جا سکتاہے بلکہ نارمل۔زندگی گزاری جا سکتی ہے خون میں کولیسٹرول کی۔زیادتی کی ایک۔وجہ موٹاپا بھی ہے جتنا وزن زیادہ ہوگا اتنا ہی کولیسٹرول بڑھنے گا امکان زیادہ ہو گا

ایک اندازے کے مطابق ہر ایک کلو گرام زیادہ وزن کے لیے جسم کو تقریباً بائیس ملی گرام زیادہ کولیسٹرول روزانہ پیدا کرنا پڑتا ہے یعنی اگرکسی کا وزن نارمل وزن سے بیس کلو زیادہ ہے تو اس کا جسم روزانہ چار سو چالیس ملی گرام۔زیادہ کولیسٹرول بنائے گا کولیسٹرول کم کرنے کے لیے سب سے پہلے موٹاپے کو کنٹرول کیا جائے کولیسٹرول کی زیادتی والی غذا ست مکمل پرہیز کرنا چاہیے زیادہ چکنائی والی اور تمام مرغن غذاوں سے مکمل پرہیز کیا جائے کولیسٹرول صرف جانوروں سے حاصل کی جانے والی خوراکوں میں پایا جاتا ہے اچھی صحت کے لیے ایک دن میں ایک شخص کو سو ملی گرام سے زیادہ کولیسٹرول نہیں کھانا چاہیے انڈوں کا استعمال بند کر دیں یا صرف انڈوں کی سفیدی لیں گوشت کا استعمال کم کریں چربی والا گوشت بالکل استعمال نہ کریں کریم مکھن چیز کریم والے دودھ دیسی گھی گردے کلیجی نہاری مغز اور سری پائے وغیرہ سے…

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔