Categories
صحت

انناس میں موجود مینگینیز انرجی کی پیداوار میں انزائمز کے معاون بنتے ہیں

لکڑی جیسے ٹھوس خول میں بند پھل انناس کا گھر جنوبی امریکہ ہے۔ وہیں سب سے پہلے انناس کی کاشت شروع ہوئی لیکن اسے انگریزوں نے 1493 ء میں کریبین ممالک میں دریافت کیا۔وہی لوگ اسے اپنے ساتھ یورپ لے گئے۔ کولمبس نے بھی اس پھل سے یورپ کو روشناس کرایا۔ 16ویں صدی میں پرتگالی اور ہسپانوی باشندوں نے انناس کو ایشیائی ممالک میں کاشت کرایا۔ جلد ہی یہ پھل امراء کی پہچان اور ان کے گھروں کی زینت بن گیا۔18ویں صدی میں چین ، برازیل اور میکسیکو بھی اس کی ترشی اور مٹھاس سے لطف اندوز ہونے لگے۔

توانائی اور صحت کا خزانہ:
صحت کے بارے میں امریکیوں سے زیادہ فکرمند قوم کوئی نہیں۔توانائی سے بھرپور کیلا ان کی اولین پسند ہے۔انناس دوسرے نمبر پر ہے۔165گرام انناس کھانے سے جسم کو 83کلوریز توانائی ملتی ہے۔یہ کولیسٹرول اور چربی سے پاک ہے، یہ حیاتین اے ،بی اور سی سے بھرپور ہے، پوٹاشیم اور تانبے کی مناسب مقدار کے علاوہ درجنوں اقسام کی معدنیات اور مرکبات بھی پائے جاتے ہیں۔ حیاتین سی (105فیصد)، مینگینیز (67فیصد)، تانبہ (20فیصد)، حیاتین بی 6 (11 فیصد) ،فائبر (8فیصد) ،فولیٹ (7فیصد)اور پینٹو جینک ایسڈ (7فیصد) پائے جاتے ہیں۔ فوڈ ریٹنگ سسٹم کے مطابق یہ صحت بخش اجزاء متعدد بیماریوں سے بچائو کا ذریعہ ہے۔ بعض تحقیقات میں سے انسانی صحت کے لئے بہترین پھل قرار دیا گیاہے۔ انناس میں خاص قسم کے مرکبات بروملین ‘‘ (Bromelain) پائے جاتے ہیں ۔یہ مرکبات تنے اور پھل ، دونوں سے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ان میں پروٹین کو ہضم کرنے میں مدد دینے والے انزائمز بھی شامل ہیں۔بعض قسم کے سرطان کے علاج میں ڈاکٹر صاحبان بروملین بطور غذا تجویز کرتے ہیں ،یہ سرطان سے بچائو اور سوزش میں کمی لاتے ہیں۔انسانی خون میں زخمی خلیے بھی موجود ہوتے ہیں ،بروقت صفائی نہ کی جاے تو یہ خون میں شامل رہ کر ایتھریسلروسس اور دل کے دورے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ یہ فری ریڈیکلز‘‘ ہوا کی فراہمی کے راستے میں جمع ہو کر دمہ اور آنتوں میں جمع ہو کر کولن کینسر کا سبب بن سکتے ہیں ۔لیکن بطوراینٹی آکسیڈنٹ ، انناس جسم کوان فاسد مادوں سے نجات دلاتا ہے۔ انناس میں موجود حیاتین سی بھی اسی ضمن میں مفید ہے۔ انناس نزلہ ، زکام اور فلو میں بھی مفید ہے۔

توانائی اور اینٹی آکسیڈنٹ :
انناس میں موجود مینگینیز انرجی کی پیداوار میں انزائمز کے معاون بنتے ہیں۔توانائی پیدا کرنے والے خلیے بھی اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتے ہیں، انناس ان فری ریڈیکلز کی صفائی کے ذریعے ان کے کام میں بہتری لاتا ہے جبکہ اس میں موجود حیاتین بی کی ایک قسم تھائی مین بھی انرجی کی پیداوار میں مدد دیتی ہے۔
مالیکیولز کی طاقت :بچپن میں آپ کی ماں نے ضرور بتایا ہو گا کہ بیٹا گاجر کھایا کرو، آنکھوں کی صحت کے لئے ضروری ہیں، بینائی تیز ہوتی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ انناس کی مناسب مقدار بینائی کو جوانی میں بھی بحال رکھنے میں معاون ہے۔ یہ جسم کوبڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ ہونے والی ٹوٹ پھوٹ میں کمی کا سبب بنتا ہے ۔ آرکائیوز آف آفتھلمولوجی ‘‘ کے مطابق دن بھر میں تین مرتبہ انناس کھانے سے بینائی کو بحال رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
دل ،دماغ ،سرطان اور جوڑوں کے لئے مفید :
عالمی ادارے فوڈ اینڈ ڈرک ایسوسی ایشن‘‘ کے مطابق انناس میں موجود حیاتین سی جسم کے مدافعتی نظام کو قوت مہیا کرتی ہے اور خلیوں میں ٹوٹ پھوٹ سے بچاتا ہے۔ یہ دل کے دورے اور جوڑوں کے درد میں بھی مفید ہے۔ بروملین خون کے بہائو کو مناسب رکھنے میں معاون ہے یہ خون کو جمنے سے روکتی ہے۔ اس میں موجود مینگینیز کی مناسب مقدار ہڈیوں اور ہڈیوں کو ملانے والے ٹشوز کے لئے قوت بخش ہے۔ایک کپ جوس پینے سے دن بھر کی 70فیصد ضروریات پوری ہو جاتی ہیں۔

انناس میں کئی اقسام کی حیاتین بی پائی جاتی ہیں، جو دبائو سے نمٹنے میں بھی معاون ہیں۔لہٰذا اینگزائٹی کا شکار افرادانناس کو اپنی خوارک کا حصہ ضرور بنائیں۔ یہ پھل بعض اقسام کے سرطان کے خلیوں کو یا تو ہلاک کر دیتا ہے یا پھر ان پر قابو پا کر انہیں جکڑ لیتا ہے جس سے وہ سائز میں سکڑ جاتے ہیں اور ان کی شدت کم ہو جاتی ہے۔یہ مسوڑھوں کے ٹشوئوں کے لئے بھی قوت بخش ہے۔ ان کو مضبوط بنا تا ہے اور منہ کے سرطان سے بھی نجات دلانے میں معاون بنتا ہے۔یہ پھل پھوڑوں پھنسیوں اور پائوں کی جلد کے پھٹنے میں بھی مفید ہے۔ انناس امائنو ایسڈ کا خزانہ ہے ۔اس میں شامل ٹرپٹوفان ہمارے جسم کو سیروٹونن پیداکرنے میں مد دیتا ہے جو جسے ہیپی ہارمون بھی کہا جاتا ہے۔ یوں یہ خوشی کا سبب بھی بنتا ہے۔ یہ سکون آور ہے۔
سانس اور الرجی میں مفید :
اس میں موجود حیاتین سی اور بروملین ناک اور گلے میں موجود بلغم کا خاتمہ کرنے میں معاون بنتی ہے۔ موسمیاتی الرجی کا نشانہ بننے والے افراد کو انناس کو اپنی خوراک کا حصہ بنا لینا چاہئے ۔اس سے سانس کی نالی کی صحت برقرار رکھنے اور الرجی سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔