Categories
صحت

کھانا کھانے کا خاص طریقہ جس سے ذیابطیس اور موٹاپا کنٹرول میں رہتے ہیں

ذیابیطس اور بڑھاپا دو ایسی چیزیں ہیں، جنہیں ہر کوئی کنٹرول میں رکھنا چاہتا ہے لیکن یہ بات الگ ہے کہ حقیقت میں یہ کام بہت کم لوگ کر پاتے ہیں حالانکہ ان دونوں چیزوں کو کنٹرول کرنے کے کچھ طریقے بہت آسان ہیں۔ ان میں سے ایک کھانے کا صحیح طریقہ ہے ۔ انسان جو کھا رہا ہے اگر صحیح طریقے سے کھائےتو جہاں اس کا وزن بڑھنے سے بچا رہتا ہے وہاں وہ اپنی عمر کے لحاظ سے بھی بہت جوان نظر آتے ہیں۔

کھانا کیسے کھانا ہے
عام طور پر لوگ سبزیاں اور سلاد اور پروٹین جیسے گوشت انڈہ وغیرہ کھانے کے بعد یا کھانے کے ساتھ کھاتے ہیں۔ اس سے ہارمونز پر فرق پڑتا ہے اور وزن بھی بڑھتا ہے۔ جبکہ اگر کاربوہائیڈریٹس سے پہلے سبزیاں اور پروٹین کھائی جائیں تو یہ انسولین کے ساتھ ساتھ گلوکوز کی بڑھتی ہوئی مقدار کو 30-40 فیصد تک کم کرتی ہے۔ نیو یارک سٹی کے ویل کارنیل میڈیکل کالج کے محققین کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کھانے کا عام طریقہ ہمارے جسم میں انسولین کی سطح کو بڑھاتا ہے۔ کئی بار متوازن خوراک لینے کے بعد بھی اس کا پورا نتیجہ سامنے نہیں آتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ کھانے کی اشیاء کو صحیح ترتیب سے کھائیں۔ یعنی کھانے کے شروع میں ہمیشہ سبزیاں، سلاد، دال اور گوشت وغیرہ کھائیں اور اس کے بعد کاربوہائیڈریٹ والے کھانے جیسے اجناس وغیرہ کا استعمال کریں اور ان کاربوہائیڈریٹس کو کھانے کے آخر میں کھائیں کیونکہ جب ان کاربز کو کھانے کے آخر میں کھایا جاتا ہے تو ان کے گلوکوز میں بدل کر خون میں شامل ہونے کا عمل سست ہو جاتا ہے اور اگر انہیں کھانے کے ابتدا میں کھایا جائے تو یہ خون میں شوگر لیول کر ہائی کرتے ہیں اور وزن بڑھاتے ہیں۔

بہت سے لوگ کھانے کے اختتام پر پانی پی لیتے ہیں اور یہ چیز بھی ان کی صحت کو نقصان پہنچاتی ہے کیونکہ کھانے کے اختتام پر پانی پی لینا کھانے میں شامل گلوکوز کو خون میں تیزی سے شامل کرنے کا باعث بنتا ہے اور اگر کھانے فوری بعد پانی نہ پیا جائے تو کھانے میں شامل گلوکوز اور کاربز آہستہ آہستہ ہضم ہوتے ہیں اور خون میں شوگر لیول کو تیزی سے اوپر جانے سے روکے رکھتے ہیں۔ ماہرین کے نزدیک اگر اپ لمبی عمر تک جوان رہنا چاہتے ہیں تو اپنے کھانے میں فائبر کی مقدار کو توازن میں کھائیں اور مرد حضرات روزانہ کم از کم 35 گرام اور خواتین 28 گرام فائبر کا استعمال لازمی کریں کیونکہ یہ نظام ہضم کو بہتر بناتی ہے اور پیٹ کو بھرا رکھنے کا سبب بنتی ہے جس سے بلا وجہ کی بھوک سے بچا جا سکتا ہے اور بلا وجہ کی بھوک ایک بڑی وجہ ہے ہے جو موٹاپا اور ذیابطیس جیسے امراض کو پیدا کرتی ہے۔ اگر آپ ذیابطیس اور موٹاپے سے بچنا چاہتے ہیں تو اپنے کھانے میں میٹھے کھانوں کو کنٹرول کریں خاص طور لیکوڈ میٹھا جیسے چائے میں چینی اور شربت وغیرہ کا استعمال ترک کر دیں کیونکہ لیکوڈ کھانے کا میٹھا بغیر کسی تعامل کے فوری طور پر خون میں شامل ہوتا ہے اور ذیابطیس کے علاوہ اور بہت سی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔
بہترین فوائد
کھانے کی ابتدا میں سبزیاں سلاد اور پروٹین اور فائبر والے کھانے کھانا جسم کو بہت سے فوائد دیتے ہیں خاص طور پر یہ کھانے سے ہارمونز کا توازن بہتر رہتا ہے، کھانا ہضم ہونے میں مدد ملتی ہے، جلد بہتر ہوتی ہے اور عمر کے ساتھ اس پر پڑنے والے اثرات کم ہو جاتے ہیں اور ذیابطیس جیسے مرض کو قابو میں رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔