Categories
صحت

ہاتھوں اور پیروں کے جلنے کی اہم وجوہات جنہیں ہرگز نظر انداز نہ کریں

ہاتھ کی ہتھیلیوں اور پاؤں کے تلووں میں جلن محسوس کرنا ایک عام مسلہ ہے جو وقت کے ساتھ خود بخود ختم ہو جاتا ہے لیکن بعض صُورتوں میں یہ کسی اور دائمی بیماری کی پیشگی علامت ہوتا ہے جسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور ایک دفعہ ڈاکٹر سے معائنہ ضرور کروا لینا چاہیے۔ اس آرٹیکل میں اُن وجوہات اوربیماریوں کا ذکر کیا جائے گا جن کی وجہ سے ہاتھوں اور پیروں پر جلن محسوس ہونا شروع ہو سکتی ہے تاکہ ان علامات سے آپکو اچھی طرح آگاہی حاصل ہو جائے اور آپ اپنی صحت کا بہتر طریقے سے خیال رکھ سکیں۔

ٹانگیں اور پاؤں
اکثر اوقات ایک ہی پوزیشن میں زیادہ دیر بیٹھنے کی وجہ سے پاؤں بے حس ہو جاتے ہیں۔ بیٹھ کر کام کرنے والے لوگ اکثر اس پریشانی کا سامنا کرتے ہیں۔ جب پیروں میں کھجلی ہوتی ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے آپ کے ٹانگوں میں یا پاؤں میں پن یا سوئیاں چبھ رہی ہیں ۔ کئی بار لوگوں کو پیروں میں سوزش کے ساتھ درد اور کمزوری کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کی وجہ ایک ہی پوزیشن میں زیادہ دیر تک بیٹھنا ہے جس سے نہ صرف سوئیاں چھبنا شروع ہو سکتی ہیں بلکہ پاؤں میں جلن بھی محسوس ہو سکتی ہے۔ اس مسلے کی وجہ زیادہ وقت تک ایک ہی پوزیشن پر ٹکے رہنا ہے اور جب پوزیشن بدل لی جاتی ہے تو آہستہ آہستہ اعصاب پر دباؤ کم ہونا شروع ہو جاتا ہے اور پھر سب کُچھ نارمل ہو جاتا ہے۔

ذیابطیس
پیروں میں سوزش کی ایک بڑی وجہ ذیابیطس کی بیماری ہے۔ ہاتھوں اور پیروں میں جلن ہونا ذیابیطس کی ابتدائی علامت سمجھی جاتی ہے۔ یہ جھنجھناہٹ پاؤں کے تلووں سے شروع ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ پورے پاؤں میں ہونے لگتی ہے۔ بہت سے معاملات میں، پیروں میں جھنجھناہٹ ذیابیطس کی ابتدائی علامت ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے انسان کو ہاتھ پاؤں میں بے حسی، جھنجھناہٹ اور جلن کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ مسئلہ 70 فیصد ذیابیطس کے مریضوں میں پایا جاتا ہے۔ شوگر کے مریضوں کے خون میں شوگر کی سطح بہت زیادہ اور بہت کم ہونے کی وجہ سے پاؤں کی رگیں خراب ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے وہ ٹھیک سے کام نہیں کر پاتے۔ اس پریشانی سے بچنے کے لیے ذیابطیس کو کنٹرول میں رکھنا بہت ضروری ہے اور اس کام کے لیے متوازن خوراک اور روزانہ مناسب ورزش بہت ضروری ہے۔

وٹامن بی 12 کی کمی
جسم میں وٹامن بی کی کمی بھی ہاتھوں اور پیروں میں جلن کی صُورت میں ظاہر ہوتی ہے اور ایسے موقع پر مریض کو متلی، تھکاوٹ، سستی اور معدے کے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ عام طور پر 60 سال سے زائد عُمر کے افراد میں اس وٹامن کی کمی واقع ہو جاتی ہے لیکن اگر خوراک متوازن نہ ہو تو یہ کمی جوانی میں بھی پیدا ہو سکتی ہے ایسے موقع پر وٹامن بی سے بھرپور کھانے جیسے انڈہ، دُودھ، مچھلی وغیرہ کھانے سے یہ کمی دُور ہو جاتی ہے، اسکے علاوہ وٹامن بی کے سپلیمنٹ بھی اس کمی کو دُور کر دیتے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ خوراک سے حاصل کیے جانے والے وٹامن سپلیمنٹ وٹامن کی نسبت جسم میں زیادہ جلدی جذب ہوتے ہیں اس لیے متوازن خوراک کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔

خواتین میں حمل
حمل کے دوران بچہ دانی کے سائز میں اضافہ ہونے کی وجہ سے یہ ٹانگوں کی رگوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے جس کی وجہ سے ہاتھوں اور پیروں میں جھنجھلاہٹ محسوس ہوتی ہے۔ زیادہ تر کیسز میں یہ مسئلہ ڈیلیوری کے بعد ٹھیک ہو جاتا ہے لیکن اگر آپ کو اس مسئلے کی وجہ سے کمزوری یا سوزش کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے تو ڈاکٹر کو ضرور دکھائیں۔ کیونکہ یہ کسی اور سنگین مسئلہ کی علامت ہو بھی ہو سکتا ہے ۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ حمل کے دوران اگر آپ اس مسلے سے دوچار ہو رہے ہیں تو آرام کریں اور ٹانگوں کو زیادہ دیر تک لٹکا کر نہ رکھیں اور تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد اپنی پوزیشن کو بدلنے کی عادت ڈالیں اور جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں اور روزانہ مناسب مقدار میں پانی کا استعمال جاری رکھیں۔

الکوحل کا کثرت سے استعمال
الکوحل صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ چیز ہے اور اسکا کثرت سے استعمال جہاں جسم میں اور کئی خرابیاں پیدا کرتا ہے وہاں اس سے اعصاب کو بھی شدید نقصان پہنچتا ہے۔ وہ خواتین جو ایک دن میں ایک سے زیادہ الکوحل والے مشروبات پیتی ہیں اوروہ مرد دو سے زیادہ الکوحل والے مشروبات پیتے ہیں تو انہیں مسئلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اور اگر آپ مسلسل اس ممنوع شے کو استعمال کرتے رہیں اعصابی نقصان کی علامات جسم پر آہستہ آہستہ ظاہر ہونا شروع کر دیتی ہیں جن میں ہاتھوں اور پیروں کا جلنا، ان میں سوئیاں چھبنا، ان میں محسوس کرنے کی حس کم ہونا اور چلتے وقت توازن بگڑنا وغیرہ شامل ہے۔
نوٹ: تمباکو نوشی، منشیات اور الکوحل صحت کے دُشمن ہیں ان سے پرہیز کرتے رہیں اور اپنی طرز زندگی میں ورزش کو شامل کریں اور خوراک میں توازن پیدا کریں اور روزانہ کم از کم 3 لیٹر پانی کا استعمال لازمی کریں خاص طور پر موسم گرما میں جسم میں پانی کی کمی پیدا نہ ہونے دیں کیونکہ پانی کی کمی ہاتھوں اور پیروں کے جلنے کے مسلے کو بڑھا دیتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔