Categories
News

پیپلز پارٹی کی سی ای سی نے منظوری دے دی، بلاول آج وزیر خارجہ کا حلف اٹھائیں گے

کراچی(این این آئی)پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی اتحادی وفاقی حکومت کی کابینہ میں بطور وزیر شامل ہونے کی منظوری دے دی ہے۔بلاول بھٹو زرداری بدھ کو بطور وفاقی وزیر حلف اٹھائیں گے۔بلاول

بھٹو زرداری کو وزارت خارجہ کا قلمبندان تقویض کیا جاسکتا ہے،پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہاہے کہ کراچی میں چینی اساتذہ پر دہشت گردی کا واقعہ قومی سلامتی پرحملہ ہے،ایسے واقعات بلوچستان کے بہن بھائیوں کے نام سے کیے جارہے ہیں۔ملک سیکورٹی ادارے اس طرح کے حملوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ہرمسائل کاحل جمہوری طریقے میں ہے۔ہم سب ملکرملک کومسائل سے نکال لیں گے۔پہلے انتخابی اصلاحات پھر عام انتخابات ہوں گے۔خان کا بیانیہ سچا نہیں ۔وہ سڑکوں کے بجائے پارلیمان میں مقابلہ کریں۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرینز کے صدر آصف علی زرداری اوراپنی سربراہی میں پی پی پی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ہائبرڈ اجلاس کے بعد بلاول ہائوس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں پیپلزپارٹی کی سی ای سی نے آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہارکیا۔ اجلاس میں پیپلزپارٹی کی رہنما شیری رحمان، نوید قمر اور قمر زمان کائرہ نے پاکستان پیپلزپارٹی کی سی ای سی کے اراکین کو چارٹر آف ڈیموکریسی کے حوالے سے پیش رفت سے آگاہ کیا۔سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان پیپلزپارٹی شعبہ خواتین کی مرکزی صدر فریال تالپور، وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ سمیت دیگراراکین شریک ہوئے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج پیپلزپارٹی کی سی ای سی اجلاس تھا۔اس اجلاس میں سی ای سی نے اجلاس میں کراچی میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کی ہے۔اس واقعہ پر وزیراعلی مرادعلی شاہ نے کراچی واقعے سے متعلق بریفنگ دی۔دہشت گردی کے ایسے واقعات قومی سلامتی پرحملہ ہیں۔ایسے واقعات بلوچستان کے بہن بھائیوں کے

نام سے کیے جارہے ہیں۔ملک بھرمیں پیپلزپارٹی دہشت گردی کیخلاف آوازبلندکرے گی۔بیرون ملک سے لوگ ہمارے نوجوانوں کوتعلیم دینے کیلیے آئے ہیں۔ہم نے جمہوری طریقے سے اپنے اہداف حاصل کیے ہیں۔ہماری حکومت اس دہشت گردانہ واقعات کوبرداشت نہیں کرے گی ۔پورے ملک میں مسائل درپیش ہیں۔بلوچستان میں نوجوانوں کوزیادہ مسائل ہیں۔سندھ میں رینجرزملکراس قسم کے دہشتگردانہ عمل کوروکیں گے۔ہرمسائل کاحل جمہوری طریقے میں ہے۔ ہم سب ملکرملک کومسائل سے نکال لیں گے۔ہمارے دین میں ہے کہ علم حاصل کرنے کے لیے چین جانا پڑے تو جانا چاہیے۔اور جہاں علم مل رہا ہے وہاں حملہ ہوا ہے۔یہ حملہ پاکستان کی ترقی کے خلاف ہے۔پیپلزپارٹی اور ریاست پاکستان اس دہشت گردی کو کسی طور پر قبول نہیں کریں گے۔بلوچ بھائی اپنے حقوق پرامن جدوجہد سے حاصل کرسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ان کے حقوق جانتے ہیں۔ ملک سیکورٹی ادارے اس طرح کے حملوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ملک کی سیاسی صورتحال پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سی ای سی اجلاس میں پوری قوم کومبارکباددی گئی۔پاکستان کی تاریخ میں بارجمہوری عدم اعتمادکامیاب ہوا۔ایک غیرجمہوری شخص ملک پرمسلط کیاگیاتھا۔ہم نے عدم اعتمادکاہتھیاراستعمال کرکے اس کوگھربھیجا۔خاص طورپرپیپلزپارٹی کے قائدین اورجیالوں کو مبارکبادپیش کرتاہو۔ہم نے سلیکٹڈحکومت کیخلاف سڑکوں پراحتجاج کرنا ہے۔چار برس جہدوجد کی اور کامیاب ہوئے۔یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ہم نے اپنی کامیابی حاصل کرلی لیکن ہم آئین کے خلاف اقدام کو بھول نہیں سکتے۔اگر آئین کی خلاف ورزی بھول گئے تو آگے بھی اس طرح خلاف ورزی ہوگی۔آئین کی خلاف ورزی میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر ملوث ہے۔آئین پر

حملے کی تحقیقات ہونی چاہئیے۔ میں اس سی ای سی اجلاس کے فیصلے کو لیکر اسلام آباد جارہا ہوں۔خان صاحب مجھے کیوں نہیں بچایا کی مہم چلا رہے ہیں۔ہم سلام پیش کرتے ہیں۔سب اداروں کو جو غیر جانبدار بن گئے ہیں۔جب ادارے آئینی رول کی طرف آرہے ہیں۔پیپلزپارٹی ان کے ساتھ کھڑی ہے۔یہ جو جمہوری شروع ہوا ہے وہ مکمل ہوگا۔لندن میں مسلم لیگ ن کے قائد نوازشریف سے ملاقات کی اور ایک افطار کی دعوت پر ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میںچارٹرآف ڈیموکریسی پر عملدرآمد پر اتفاق کیا ہے۔سب جماعتوں نے ملک کے مفاد کو دیکھنا ہے۔ جو نقصان معیشت اور خارجہ پالیسی اور ملک کو ہوا ہے اس نقصان کا ازالہ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ صاف اور شفاف انتخابات ہوں اس لیے انتخابی اصلاحات کرنی ہیں۔سب سیاسی جماعتوں کے ساتھ ملکر انتخابی اصلاحات پر کام کریں گے۔پہلے کہا جاتا تھا پہلے احتساب پھر انتخاب۔ہم کہتے ہیں پہلے اصلاحات پھر انتخاب۔یہ بہت بڑا چیلنج ہے۔جس طرح شہباز شریف نے پہلی تقریر میں باتیں کی۔ اس سے تاثر گیا کہ ایک صوبر اور سیاسی شخص کو وزیراعظم کا عہدہ ملا ہے۔عمران خان حکومت نے بے نظیر اِنکم سپورٹ پروگرام سے خواتین کے پیسے بند کئے۔اب ان خواتین کو بھی حق ملے گا۔انہوں نے کہا کہ پینشنرز کے لئے پیپلزپارٹی آواز بلند کی شہبازشریف صاحب نے اعلان کیا ویلکم کرتے ہیں۔ملکر کام کرنے سے اچھے نتائج ملیں گے۔بدھ کو اسلام آباد پہنچ کر حلف لوں گا۔ شہباز شریف حکومت کا حصہ بنوں گا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آئین شکنی پاکستان کا سب سے بڑا جرم ہے۔اس کی تحقیقات ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے معاہدہ سامنے ہوتا تو دہرا دیتا۔اس معاہدے پر عمل ہوگا۔سندھ کے بلدیاتی نظام میں بہتری لانی ہے۔ہم اس بلدیاتی

نظام میں بہتری کی گنجائش ہے اور بہتری لائیں گے۔ملکر کام کرنے سے بھتر کام ہوگا اور کامیابی بھی ملے گی۔ بلاول بھٹوزرداری نے کہا کہ خان صاحب کے بیانیے میں کبھی سچ نہیں ہوتا۔جب سچ نہیں ہوتا پھر بھی بات کرتے رہتے ہیں۔خان کے ڈکٹیشن پر کچھ نہیں ہوگا۔تحریک انصاف اور عمران خان نے غلطی کی ہے پارلیمان چھوڑنے کی۔خان واپس آئے پارلیمان میں اور جمہوری طریقے سے مقابلہ کرے۔سول وار کسی بات کا حل نہیں۔ہم کراچی میں پیدا ہوئے ہیں اور سول وار دیکھی ہے۔اس شخص کی وجہ سے ملک میں معاشی بحران ہے۔ہم ملک کو معاشی مسائل سے نکالیں گے۔انہوں نے کہا کہہمیں خوشی ہوئی وزیراعظم شہبازشریف کراچی آئے وزیراعلی ہائوس آئے۔سندھ کے مسائل سنے۔چار سال سے اداروں پر حملے ہوئے۔اب کسی شخص کی وجہ سے اداروں کو متنازعہ نہیں ہونے دیں گے۔ماضی میں جن سے غلطی ہوئی وہ درست کرلیں۔انہوں نے کہا کہ کافی افواہ چلی کے کوئی مطالبہ لیکر لندن گیا.لیکن چارٹرآف ڈیموکریسی پر بات ہوئی صدر کا مواخذہ مشکل فیصلہ ہوگا جس کی وجہ موجودہ نمبرز ہیں۔اب ہر پارٹی چیلنج قبول کرے۔مل کر ہم ملکی مسائل حل کرسکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔