Categories
Totkay

مرغن غذاؤں کی طلب کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے

اگرآپ وزن کم کرنے کیلئے مرغن غذا سے اجتناب کررہے ہیں لیکن مسلسل اس کی طرف دل راغب ہورہا ہے تو ورزش سے مدد لیجئے ورزش کرنے سے فاسٹ فوڈ اور دیگر کھانوں کی طلب کم ہوجاتی ہے۔

واشنگٹن اسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے کہا ہے کہ سخت قسم یعنی ہائی انٹینسٹی کی ورزش سے مضر غذا اور کھانوں کی اشتہا کو کم کیا کرنا ممکن ہے۔ اس طرح ورزش کا ایک اور فائدہ بھی ہے جو براہِ راست تو نہیں لیکن بالراست انداز میں ہماری صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔یعنی ہائی انٹینسٹی کی ورزش سے چکنائی بھرے لذیذ کھانوں کی طلب کو ٹالا جاسکتا ہے۔ سائنسدانوں نے چوہوں پر اس کے کچھ اثرات دیکھے ہیں جنکی تعبیر ہم انسانوں پر بھی کی ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چوہوں کی جسمانی کیفیت انسانوں سے دور نہیں ہوتی اور ماضی میں ان پر کی گئی بہت سی تحقیقات کا اثر انسانوں پر پڑتا ہے۔ ہمیں بعض اشیا کھانے کی غیرمعمولی قربت ہوتی ہے اور غذائی ماہرین نے اسے ’انکیوپیشن آف کریوِنگ‘ یعنی طلب کا پلنا کہتے ہیں۔ یعنی جس شے سے جتنی دیر تک ہم اجتناب کریں گے اس کی طلب اتنی ہی زیادہ ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم سبزیوں کا کم استعمال کرتے ہیں اور برگر یا فرنچ فرائیز کو زیادہ استعمال کرتے ہیں۔پہلے مرحلے میں سائنسدانوں نے چوہوں کو تربیت دی کہ وہ ایک بٹن (لیور) دباکر چکنائی بھری فاسٹ فوڈ گولیاں کھاسکیں۔ اس سے پہلے ایک روشنی جلتی اور میوزک بجتا جو مرغن کھانے کا اشارہ تھا یا چوہے کو اس طرف راغب کرنے کی طلب تھی۔

پھر بہت سے چوہوں کو تیس دن ڈائٹ پر رکھا گیا۔ ان کو دو گروہوں میں تقسیم کی گیا تھا۔ ایک گروہ کو ٹریڈمِل جیسی ورزش کروائی گئی اور دوسرے گروہ کو ایسے ہی چھوڑ ا گیا۔ ماہرین دنگ رہ گئے کہ جن چوہوں نے ورزش کی تھی مرغن غذا میں ان کی دلچسپی کم ہوگئی اور میوزک بجنے یا روشنی کے اشارے کے باوجود چوہوں نے بھوک میں بھی بٹن نہیں پریس نہیں کیا اور نہی ہی فاسٹ فوڈ گولیوں کو کھایا۔ لیکن جن چوہوں نے ورزش نہیں کی وہ معمول کے مطابق بٹن دباتے رہے اور مزے سے لحمیاتی گولیاں سے اپنی بھوک مٹاتے رہے۔ معلوم ہوا کہ ورزش نے چوہوں کے ایک گروہ میں غیرصحت بخش غذا کی اشتہا کو کم کردیا تھا۔ اگرچہ یہ تحقیق ابتدائی مرحلے میں تو ہے لیکن ہم انسانوں کیلئے اس میں بھی کوئی نہ کوئی سبق لازمی ہے۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ورزش سے جسم میں کوئی ایسا کیمیکل پیدا ہوتا ہے جو ہم کو فاسٹ فوڈ جیسی روغنی خوراک سے دورلے جاتا ہے۔ تاہم اس پر مزید تحقیق درکارہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔