Categories
sehat

شہتوت اور اسکے پتے ذیابیطس سمیت کئی بیماریوں کا قدرتی علاج ہیں

آپکو آجکل بازار میں خوبصورت شہتوت ریڑھیوں پر عام دیکھائی دیتے ہوں گے یہ پھل بہت کم عرصے کے لیے بازار میں آتا ہے اور اس کا سیزن بہت جلد ختم ہو جاتا ہے اور لوگ عام طور پر اسے خشک کر کے سارا سال استعمال کرنے کے لیے رکھ لیتے ہیں۔ شہتوت کھانا صحت کو کئی طریقوں سے فائدہ پہنچاتا ہے۔


ذیابطیس میں مفید
جدید میڈیکل سائنس کی بہت سی تحقیات سے پتہ چلتا ہے کہ شہتوت اور اس کے پتے ذیابطیس کے مرض کے لیے انتہائی مفید غذا ہیں۔ شہتوت کے پتوں میں ذیابطیس کو کنٹرول کرنے کے لیے ادویاتی خوبیاں پائی جاتی ہیں جو جسم میں گلوکوز کو جذب کرنے میں مدد دیتی ہیں اور انسولین کی سیکریشن اور پروڈکشن کو بڑھاتی ہیں۔ شہتوت اور اسکے پتوں میں اینٹی انفلامیٹری اور اینٹی آکسائیڈینٹ خوبیاں خون میں شوگر کے لیول کو حیران کُن طریقے سے کم کرتی ہیں اور خوراک میں شامل گلوکوز کو خون میں تیزی سے شامل ہونے سے روکتی ہیں۔ ذیابطیس کے مریضوں کے لیے شہتوت کے پتے کسی اکسیر سے کم نہیں ہے اور اگر ذیابطیس کے مریض اس کے پتوں کا قہوہ ہر کھانے کے بعد استعمال کریں تو یہ ان کی شوگر کو کنٹرول میں رکھنے میں انتہائی مدد گار ثابت ہوگا۔
قوت مدافعت
شہتوت میں وٹامن سی وافر مقدار میں پایا جاتا ہے اور یہ وٹامن انسان کی قوت مدافعت کے لیے انتہائی ضروری چیز ہے کیونکہ یہ قوت مدافعت کو فعال رکھتا ہے اور قوت مدافعت کا فعال رہنا جسم کو وائرل بیماریوں کے حملے سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

آنکھوں کے لیے فائدہ مند
موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی ملک کے تقریبًا تمام حصوں میں شہتوت نظر آنا شروع ہو جاتی ہے۔ گرمیوں میں اس کا استعمال جسم کے لیے صحت بخش سمجھا جاتا ہے۔ یہ پھل آنکھوں کی دیکھ بھال کے لیے بھی بہت مفید ہے۔ اگر آپ کو بھی آنکھوں میں تھکاوٹ اور خشکی کی شکایت ہے تو آپ شہتوت کا استعمال ضرور کریں۔
معدے کے لیے مفید
شہتوت میں فائبر بھی پائی جاتی ہے اور فائبر ہمارے نظام انہظام کے لیے انتہائی ضروری چیز ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مرد کو روزانہ 35 گرام اور خواتین کو روزانہ 28 گرام فائبر لازمی کھانی چاہیے۔ شہتوت نظام انہظام کے افعال کو بہتر بناتا ہے اور اسے قبض جیسی بیماری سے محفوظ رکھتا ہے اور اس کی اینٹی انفلامیٹری خوبیاں معدے کی بہت سی بیماریوں کو پیدا ہونے سے روکتی ہیں خاص طور پر یہ معدے کی سوزش کو ختم کرنے کے لیے انتہائی مفید چیز ہے۔
بال اور جلد
شہتوت کا استعمال بالوں کے لیے بھی انتہائی فائدہ مند ہے یہ بالوں کو مضبوط بنانے اور انہیں گرنے سے روکنے میں مدد دیتا ہے اور بالوں کے رنگ کو سفید ہونے سے روکتا ہے اور اسے کھانے سے جلد کی چمک میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور جلد کی بہت سی بیماریاں قابو میں رہتی ہیں خاص طور پر یہ جلد کو جلدی بوڑھا نہیں ہونے دیتا اور جلد کی لچک میں بہتری لاتا ہے۔

کولیسٹرال
ایک تحقیق کے مطابق ذیابطیس کے وہ مریض جنہیں کولیسٹرال کا بھی مسلہ ہے اُن کے لیے سفید شہتوت کے پتے کسی اکسیر سے کم نہیں ہیں۔ بڑھے ہُوئے کولیسٹرال کو کم کرنے کے لیے سفید شہتوت کے پتوں کا پاوڈر ایک گرام روزانہ کم از کم 4 ہفتے کھانے سے ایل ڈی ایل یعنی بُرے کولیسٹرال میں 12 فیصد تک کمی پیدا کی جاسکتی ہے اور یہ ایچ ڈی ایل یعنی اچھے کولیسٹرال میں 23 فیصد تک اضافہ کر سکتا ہے۔
گلا خراب
گلے کی انفیکشن، کھانسی و نزلہ زکام وغیرہ میں شہتوت صدیوں سے بطور دوا استعمال ہو رہا ہے اور یہ ان امراض میں ایک قدرتی دوا ہے۔ طبی ماہرین کے نزدیک یہ سانس کی بیماریوں میں بھی حیرت انگیز طور پر کمی پیدا کرتا ہے اور اس کا باقاعدہ استعمال جوڑوں اور پٹھوں کے درد میں مفید ہے۔ اگر آپ کو چکر آتے ہیں اور کانوں میں سیٹیاں بجتی ہیں تو اپنے ناشتے میں شہتوت کو لازمی شامل کریں یہ آپ کے ان امراض کو قدرتی طور پر ٹھیک کرے گا اور آپ کی صحت کو کئی اور فائدے دے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔