Categories
دین اسلام

رمضان المبارک میں دنیا بھرکے مختلف مما لک میں رائج مخصوص روایات

رمضان کا مہینہ اپنی تمام رحمتوں اور برکتوں کے ساتھ پوری دنیا میں سایہ فگن ہے۔ پوری دنیا کے مسلمان روایتی جوش وجذبے سے اس ماہِ مبارک کا اہتمام کرتے ہیں۔رمضان کے آتے ہی سحر وافطار کے اہتمام شروع ہو جاتے ہیں۔ مرد اپنے کاموں کے ساتھ روزے کا اہتمام اور خواتین اپنی گھریلو ذمہ داریاں بڑھ جانے کے باوجود خوشی خوشی افطار اور سحری کے شاندار انتظامات کرتی ہیں۔


دنیا بھر میں جہاں جہاں مسلمان موجود ہیں وہاں وہاں ان ملکوں کی روایات کے ساتھ یہ مذہبی تہوار منایا جاتا ہے۔ افطار کا ایک مختلف ہی قسم کا دسترخوان ہوتا ہے۔ کچھ پکوان اور غذائيں ایسی ہیں جو ماہ رمضان میں ہی بنائی جاتی ہیں اور لوگ سال بھر ان کے لیے رمضان کا انتظار کرتے ہیں۔
پاکستان
افطار کا دسترخوان خاتون خانہ کی خانہ داری اور سلیقہ مندی کا نمونہ ہوا کرتا ہے۔ کجھور، چٹنیاں، شامی کباب، ماش کی دال کے دہی بڑے، مختلف قسم کے پکوڑے، دہی پھلکیاں،چنا چاٹ، پھلوں کی چاٹ، مختلف قسم کے شربت وغیرہ ۔ ہر گھر میں افطار کے وقت برکت اور ثواب کی نیت سے صرف خود ہی نہیں بلکہ محلے اور محلے کی مسجدوں میں بھی افطار بھیجا جاتا ہے۔
اس وقت ہمارے ملک کے مختلف شہروں میں افطار کے وقت سائرن بجنے کی روایت موجود ہے جبکہ سحری کے وقت اکثر علاقوں میں سحری کے لئے اٹھانے والے ڈھول بجاتے ہوئے آتے ہیں اور سحری کے لئے اٹھاتے ہیں۔ اکثرعلاقوں کو لائٹوں اور قمقموں سے سجایا جاتا ہے۔

سعودی عرب
رمضان کی آمد کے ساتھ ہی مکہ میں زائرین کی تعداد بڑھنی شروع ہوتی ہے اور لوگ کعبے کے سامنے بیٹھ کر روزہ افطار کرنا زندگی کا سب سے بڑا لمحہ سمجھتے ہیں۔
مکہ میں بچھائے جانے والے دسترخوان کی لمبائی 12 کلو میٹر ہے جو کعبہ کے گرد لگایا جاتا ہے اور جہاں روزانہ لاکھوں روزہ دار افطار کرتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق ان پر دس لاکھ افراد بیٹھ کر افطار کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ یہ دنیا کی سب سے بڑی افطاری ہے جو صرف دس منٹ میں سمٹ جاتی ہے اور فرش دھل کر صاف ہو جاتا ہے۔ روزانہ 50 لاکھ کھجوریں اور 20 لاکھ آب زمزم کی بوتلیں افطار کے دسترخوان پر سجائی جاتی ہیں۔ گرمیوں کے افطار میں مختلف اقسام کے مشروب کا بطور خاص انتظام کیا جاتا ہے۔
سعودی عرب میں رمضان خیمے لگائے جاتے ہیں، اس اقدام کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہاں پر مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے غریب اور نادار روزے دار باعزت طریقے سے افطاری کرسکیں۔

انڈونیشیا
انڈونیشیا وہ ملک ہے جہاں مسلمانوں کی آبادی 90 فیصد ہے۔ انڈونیشیا میں افطار کرنے کو ‘بربوکا پواسا’ کہتے ہیں۔ شام ہوتے ہیں انڈونیشیا میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ شہر جگمگا اٹھتے ہیں اور بازاروں کی رونق دوبالا ہو جاتی ہے۔ یہاں بھی لوگ عام طور پر کھجور سے افطار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی میٹھی نرم چیز سے بھی افطار شروع کرتے ہیں تاکہ دن بھر کے روزے کے بعد پیٹ میں ایک دم کوئی بھاری چیز نہ جائے۔کھجور کے ساتھ ہی اونڈے اونڈے کی گولیاں کھائی جاتی ہیں۔ یہ وہاں رمضان کی خاص الخاض ڈش کہلائی جا سکتی ہے۔ پاندان کے پتے کو پیس کر اس میں کھجور کا شیرہ ملا کر چھوٹی چھوٹی گولیاں بنائی جاتی ہیں اور اس پر تازہ پسا ہوا ناریل چھڑک کر کھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پلاسٹک کی تھیلیوں میں نوڈلز اور نشاستہ کی گولیاں پاندان کے شربت کے ساتھ بازار میں دستیاب ہوتی ہیں۔
افطار کے دسترخوان پر سموسہ، بالا بالا (ہلکی تلی ہوئی موسمی سبزیاں)، می گورینگ (مصالحہ دار نوڈلز)، کولک (شکرقندی اور کیلے کے ٹکڑے ناریل کے دودھ اور کچھوڑ کے پیڑے کے ساتھ)، مرتبک اور موسمی پھل وغیرہ ہوتے ہیں۔

ملیشیا
ملائیشیا میں بھی مسلمانوں کی کثیر آبادی رہتی ہے اور وہاں بھی رمضان کی مناسبت سے سحر و افطار کے مذہبی اور اجتما‏عی پروگرام ترتیب دیے جاتے ہیں۔ یہاں بھی افطار کو ‘بربوکا پواسا’ کہتے ہیں۔ رمضان بھر یہاں کی مساجد میں غریبوں کے افطار اور کھانے کا انتظام بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے۔
افطار کے دسترخوان پر گنے کا رس، سویابین، دودھ میں نشاستہ کے رنگین ٹکڑے، مختلف قسم کے ساتے، لمبوک (ناریل کے دودھ میں گوشت اور ہلکے مصالحے میں پکا ہوا دلیہ)، مرغ اور چاول کا پلاؤ، مرتبک، ببولا مارک (چاول کا روایتی پکوان) ہوتے ہیں۔ افطار کا سب سے بڑا اہتمام کوالالمپور میں ہوتا ہے ۔ اس میں تقریبا 30 ہزارافراد شامل ہوتے ہیں اور یہ ملائیشیا کا سب سے بڑا افطار ہے جس میں خواتین بھی شامل ہوتی ہیں۔

مصر
مصر میں بھی رمضان کا مہینہ پورے جوش و خروش سے منایا جاتا ہے۔ مصر میں رمضان کے ساتھ فانوس، قندیل اور چراغ کی دلچسپ روایت جڑی ہے۔ اس ماہ کے آغاز سے قبل ہی اس کی خرید و فروخت شروع ہو جاتی ہے۔ جس طرح مسیحی بیت الحم کا ستارہ اپنے گھروں کی کھڑکیوں پر ٹانگتے ہیں اسی طرح مصری خوبصورت فانوس اپنے گھروں میں اور گھر کے باہرلگاتے ہیں۔
مصر میں افطار کے تھال سجائے جاتے ہیں تاکہ ہر شخص ہر طرح کی غذا کا لطف اٹھا سکے۔ کجھور کے ساتھ خشک میوے انجیر اور کشمش، زرد آلو کے سلاد، رمضان کا مخصوص شربت امرالدین، کنافا وہاں افطار کی خاص ڈش ہیں۔ کنافا کے بارے میں کہتے ہیں کہ اسے سحری میں کھانے سے دن بھر بھوک کا احساس نہیں ہوگا۔ اسی لئے کنافا افطار و سحر دونوں دسترخوان پر موجود ہوتا ہے۔ مصر سمیت مختلف ممالک کے گاؤں دیہاتوں میں یہ رسم آج بھی زندہ ہے کہ وہاں سحر کے وقت ایک شخص ہاتھ میں لالٹین تھام کر نکلتا ہے اور ہر شخص کے گھر کے باہر کھڑا ہوکر اُس کا نام زور سے پکارتا ہے، بعد ازاں گلی کے نکڑ پر کھڑے ہوکر ڈھول کی تھاپ پر حمد و نعت پڑھتا ہے۔ ان افراد کو اگرچہ کوئی باقاعدہ تنخواہ نہیں ملتی لیکن ماہ رمضان کے اختتام پر لوگ اپنی خوشی سے انہیں مختلف تحائف دیتے ہیں۔

ترکی
یہ روایت ترکی کی ہے جہاں لوگ رمضان کے آغاز کا اعلان بگل بجا کر کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ سلطنتِ عثمانیہ کے دور سے یہ بھی رواج ہے کہ رمضان کے شروع ہونے کا اعلان توپ کا گولہ فائر کر کے کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ترکی کو مسجدوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے، وہاں ساری رات مسجدوں میں روشنیاں کی جاتی ہیں اور پھرصبح یہ روشنیاں بجھائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہاں یہ بھی سلطنتِ عثمانیہ کے دور سے روایت ہے کہ تندور پر نیکی کی ٹوکری رکھ دی جاتی ہے جس میں لوگ ایکسٹرا روٹی خرید کر رکھ دیتے ہیں اور جو ضرورتمند چاہتا ہے اس میں سے روٹی لے جاتا ہے۔

سوڈان
سوڈان میں ایک شخص جس کو مساہراتی کہتے ہیں گلیوں کے چکر لگاتا ہے اور اس کے ساتھ ایک بچہ ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں ان تمام افراد کی فہرست ہوتی ہے جن کو سحری کے لیے آواز دے کر اٹھانا مقصود ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ علاقوں میں لالٹین کے ساتھ گلیوں میں پھرتے ہیں اور بعض دف بجا کر لوگوں کو اٹھاتے ہیں۔ ان کو بھی لوگ تحائف دیتے ہیں ان کی کوئی باقاعدہ تنخواہ نہیں ہوتی۔
ایران
ایران میں افطاری کچھ مخصوص اشیاء سے کی جاتی ہے جن میں چائے، ایک خاص طرح کی روٹی جسے ’نون‘ کہا جاتا ہے، پنیر، مختلف قسم کی مٹھائیاں، کھجوراور حلوہ شامل ہے۔
بھارت
بھارت میں یہ رواج ہے کہ وہاں رمضان کے پہلے جمعے کو اونٹ کی قربانی کی جاتی ہے اور لوگوں میں گوشت تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہاں بھی پاکستان سے ملتے جلتے ہی رسوم و رواج ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔