Categories
News

شیریں مزاری کے خاندان کا “کچہ میانوالی کی 40 ہزار کنال زمین پر قبضہ لیکن تحریک انصاف کی حکومت میں انہیں کون بچاتا رہا؟ تہلکہ خیز “سکینڈل” سامنے آگیا

شیریں مزاری کے والد سردار عاشق محمود خان مزاری پنجاب کے آخری ضلع راجن پور کی تحصیل روجھان کے بڑے فیوڈل لارڈ تھے‘ یہ ہزاروں ایکڑ زمین کے مالک تھے‘ ذوالفقار علی بھٹو نے جب لینڈ ریفارمز شروع کیں اورفیوڈل لارڈز سے زمینیں لے

کر مزارعوں اورہاریوں میں تقسیم کر دیں تو سردار عاشق مزاری کی زمین بھی تقسیم ہو گئی‘پاکستان لینڈ ریفارمز کو پتا چلا موضع کچہ میانوالی کی چالیس ہزار کنال زمین کی جمع بندی اور پرت سرکار دونوں ملی بھگت سے غائب کر دی گئی ہیں‘یہ کام اس زمانے میں بہت آسان تھا‘ فیوڈلز اپنے علاقے میں پٹواری اور تحصیل دار اپنی مرضی کا لگوا لیتے تھے اور سردار کو جب بھی ریکارڈ کی ضرورت پڑتی تھی تو اہلکار پورا محکمہ مال اٹھا کر سائیں کے گھر لے آتے تھے‘ 1971ء میں بھی یہی ہوا‘ محکمہ مال کے اہلکار عاشق مزاری کا ریکارڈ بھی ان کے ڈیرے پر لے آئے اور سردار نے محکمہ مال کے ساتھ مل کر جعلی ریکارڈ بنا دیا ‘ اس پر ڈپٹی کمشنر کی جعلی مہریں تک لگا دیں‘ اصل ریکارڈ کا صندوق سردار کے وفادار پٹواری کے گھر رکھوا دیا گیا‘ اس بندوبست کا مقصد چھاپے سے بچنا تھا‘ بھٹو صاحب نے اس زمانے میں ہر فیوڈل لارڈ کے ڈیرے پر اپنے جاسوس چھوڑ رکھے تھے‘ جاسوس کو جوں ہی گڑ بڑ کی بھنک پڑتی تھی ‘ پولیس اگلے دن چھاپہ مار کر اصل ریکارڈ حاصل کر لیتی تھی لہٰذا سردار نے چھاپے کے خوف سے یہ ریکارڈ پٹواری کے پاس رکھوا دیا تھا‘ پٹواری بھی خوف زدہ تھا‘ اس نے اپنے نائب قاصد کو اعتماد میں لیا اور صندوق اس کے گھر میں چھپا دیا ‘بہرحال قصہ مختصر 40 ہزار کنال زمین کا نیا ریکارڈ بنایاگیا‘ جعلی کمپنیاں بنائی گئیں اور وہ زمینیں ان کمپنیوں کے نام منتقل ہو گئیں‘ مزاری صاحب کے خلاف کیس شروع ہوا اور فیڈرل لینڈ کمیشن نے 1975ء میں کمپنیوں کو جعلی قرار دے دیا‘ مزاری فیملی کے خلاف قانونی کارروائی کا حکم جاری ہو گیا اور یہ مقدمہ 50 سال چلتا رہا‘عاشق مزاری کا دعویٰ تھا

زمینیں اگر محکمہ مال کی ملکیت ہیں تو یہ ریکارڈ لے کر آئے‘ عدالت محکمہ مال کو ریکارڈ لانے کا حکم دیتی تھی اور اصل ریکارڈ غائب تھا‘ زمینیں اس دوران اربوں روپے کی بھی ہو گئیں اور تقسیم بھی ہوتی رہیں اور فروخت بھی‘ سردار عاشق مزاری کا انتقال ہو گیا اور یوں شیریں مزاری‘ ان کے بھائی سردار ولی محمد مزاری اور ان کی والدہ درشہوار مزاری اس پراپرٹی کے ’’بینی فیشری‘‘ ہو گئے‘ میں آپ کو یہاں یہ بھی بتاتا چلوں شیریں مزاری کا پورا نام شیریں مہرالنساء مزاری ہے‘ نادرا کے ریکارڈ میں ان کی تاریخ پیدائش 6 جولائی 1951ء ہے جب کہ گوگل میں ان کی ڈیٹ آف برتھ 26 اپریل 1966ء آتی ہے‘ یہ 15 سال کا فرق کیوں ہے؟تفتیش کاروں کا دعویٰ ہے شیریں مزاری کے وکیل اس فرق کی بنیاد پر یہ دعویٰ کر تے ہیں’’ یہ مسئلہ جب اٹھا تھا میری مؤکلہ کی عمر اس وقت صرف پانچ سال تھی‘یہ بچی تھیں‘ یہ ریکارڈ میں گڑ بڑ کیسے کر سکتی ہیں؟‘‘ لیکن یہ دعویٰ غلط ہے کیوں کہ شیریں مزاری کی عمر اس وقت 20 سال تھی اور یہ عاقل اور بالغ بھی تھیں لہٰذا کمپنیاں بنانے اور زمینوں کی منتقلی میں ان کی رضامندی بھی شامل تھی‘ قصہ مزید مختصر یہ ایشو فیڈرل لینڈ کمیشن اور عدالتوں سے ہوتا ہوا اینٹی کرپشن پنجاب پہنچ گیا۔ہم کہانی کو مزید آگے بڑھاتے ہیں‘ مزاری فیملی کے خلاف تفتیش شروع ہوئی اوریہ چلتی رہی‘ اس دوران ریکارڈ غائب کرنے والا پٹواری گرداور ہوا‘ ریٹائر ہوا اور فوت ہو گیا‘ وہ نائب قاصد جس کے گھر میں اصل ریکارڈ کا صندوق تھا وہ بھی دنیا سے رخصت ہو گیا لیکن کیس عدالتوں اور اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کے درمیان کبھی اِدھر ہو جاتا تھا اور کبھی اُدھر‘ شیریں مزاری 2008ء میں

سیاست میں آگئیں‘ 2018ء میںپی ٹی آئی کی حکومت آئی تو شہزاد اکبر کیس میں ان کی سپورٹ کرنے لگے‘ ڈی جی اینٹی کرپشن گوہر نفیس شہزاد اکبر کے دست راست تھے لہٰذا روجھان کی زمینوں کی تفتیش الماریوں میں بند کر دی گئی لیکن آپ بدقسمتی دیکھیے‘ شہزاد اکبر کے بعد گوہر نفیس تبدیل ہو گئے اور ان کی جگہ رائے منظور جیسا دبنگ افسر آ گیا‘یہ شخص ایمان دار بھی ہے اور بے خوف بھی‘اس کے پروفائل میں درجنوں ہائی پروفائل کیس موجود ہیں‘بیوروکریسی میں رائے منظور کو عزت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے‘ یہ مار کھا کر بھی پیچھے نہیں ہٹتا لہٰذا ہر حکومت اس کے خلاف ہو جاتی ہے‘ بہرحال رائے منظور نے چارج سنبھالا تو وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے انہیں بلا کر شیریں مزاری کی سفارش کی لیکن یہ سفارش الٹی پڑ گئی‘ عثمان بزدار اگر ڈی جی کو نہ کہتے تو شاید یہ کیس مزید کچھ عرصہ فائلوں میں دبا رہ جاتا لیکن جوں ہی صوبے کے چیف ایگزیکٹو نے سفارش کی تو رائے منظور نے فائل کھولی اور 40 ہزار کنال کی سیریس تفتیش شروع کر دی اور آپ رائے منظور کا کمال دیکھیے‘یہ پچاس سال بعد ریکارڈ کے اصل صندوق تک پہنچ گیا‘ صندوق تاحال نائب قاصد کے گھر پر پڑا تھا‘ وہ فوت ہو گیا تھا لیکن اس کا بیٹا اس گھر میں صندوق کے ساتھ رہ رہا تھا‘ اینٹی کرپشن کی ٹیم اس کے گھر تک پہنچی اور اصل ریکارڈ قبضے میں لے لیا ‘ یہ میجر بریک تھرو تھا‘ رائے منظور نے ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کا حکم دے دیا‘ یہ خبر چیف منسٹر ہائوس پہنچی اور عثمان بزدار نے ڈی جی کو طلب کر لیا‘ یہ بیمار تھے‘

حالت بیماری میں سی ایم آفس پہنچے‘ وزیراعلیٰ نے انہیں ایف آئی آر سے روک دیا لیکن ان کا جواب تھا سرآپ میرا تبادلہ کر دیں مگر میں ایف آئی آر سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا‘سی ایم نے رائے منظور کے تبادلے کا حکم دے دیا مگر عدم اعتماد کی وجہ سے حالات بدل گئے اور یہ تبادلہ نہ ہو سکا‘ دوسری طرف رائے منظور نے پہلی فرصت میں ’’کچہ میانوالی‘‘ زمین کی ایف آئی آر بھی درج کرا دی اور تفتیش کا حکم بھی جاری کر دیا۔ آپ اب ایک دوسری کہانی بھی سنیے‘میری چند دن قبل پی ٹی آئی کے ایک منحرف رکن سے ملاقات ہوئی‘یہ سائوتھ پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں‘ میں نے اس سے پوچھا ’’حکومت اپوزیشن نے بنا لی‘ آپ لوگوں کو کیا ملا؟‘‘ اس نے ہنس کر جواب دیا ’’ہمارے رکے ہوئے کام ہو رہے ہیں‘‘ میں نے کاموں کی تفصیل پوچھی تو اس نے قہقہہ لگایا اور کام گنوانا شروع کر دیے‘ان کاموں میں اچانک 40 ہزار کنال زمین کا ذکر بھی آ گیا‘وہ ہنس کر بولا’’میں ڈی جی اینٹی کرپشن کا تبادلہ کرانا چاہتا ہوں‘‘ میں نے حیران ہو کر پوچھا ’’آپ کو کیا فائدہ ہو گا؟‘‘ وہ ہنس کر بولا ’’ضرورتیں ایک دوسرے کی کزن ہوتی ہیں‘‘ میں نے اس کیس کے بارے میں اس سے ٹوہ لی اور یوں یہ معاملہ کھلتا چلا گیا اور میں حیران رہ گیا کہ یہ لوگ کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں‘ حکومت بدل گئی‘ اپوزیشن حکمران بن گئی اور حکومت اپوزیشن‘ شیریں مزاری نئی حکومت کو امپورٹڈ بھی کہہ رہی ہیں جب کہ دوسری طرف ان کے پرانے ساتھی نئی حکومت سے ان کے خلاف تفتیش بند کرانا چاہتے ہیں اوریہ معاملہ بھی 40 ہزار کنال کی خورد برد اور

ریکارڈ میں جعل سازی کا ہےلہٰذامیں اب اس دن کا انتظار کررہا ہوں جب اس تفتیش کا ریکارڈ اور 51 سال پرانا صندوق ایک بار پھر غائب ہو جائے گا اور ایف آئی آر درج کرانے‘ تفتیش کرنے والی ٹیم اور ڈی جی اینٹی کرپشن کو کھڈے لائین لگا دیا جائے گا اور نئی ٹیم ریکارڈ کو ایک بار پھر دفن کر دے گی اور یوں یہ معاملہ مزید پچاس سال کے لیے دفن ہو جائے گا۔ میں شیریں مزاری کا فین ہوں‘ انہوں نے خواتین کے حقوق کے لیے بہت کام کیا‘ یہ عمران خان کی کابینہ میں طارق بشیر چیمہ کے بعد دوسری وزیر تھیں جو وزیراعظم کے سامنے زبان بھی کھول لیتی تھیں اور ان کی رائے سے اختلاف بھی کر لیتی تھیں‘ موٹروے زیادتی کیس پر جب سی سی پی او عمر شیخ نے متاثرہ خاتون کے خلاف بیان دیا تو شیریں مزاری نے انہیں بھی آڑے ہاتھوں لیا ‘ یہ پڑھی لکھی بھی ہیں‘لندن سکول آف اکنامکس اور کولمبیا یونیورسٹی کی ڈگری ہولڈر ہیں لیکن اس کے باوجود ان کے پاس 40 ہزار کنال زمین پر قبضے اور ریکارڈ میں ردوبدل کا کیا جواب ہے؟میں نے اس جواب کے لیے ان سے رابط کیا‘ ان کا کہنا تھا میں نے سنا ہے کوئی ایف آئی آر درج ہوئی ہے اور کوئی تفتیش بھی ہو رہی ہے لیکن ہمیں ابھی تک نہیں بلایا گیا اور نہ اطلاع دی گئی‘ یہ نئی حکومت کا شوشہ ہے‘ یہ تفتیش کرنا چاہتے ہیں تو کر لیں مگر ہمارے پورے علاقے میں کسی کے پاس بھی چالیس ہزار کنال زمین نہیں ہے۔ شیریں مزاری ٹھیک فرما رہی ہیں یا اینٹی کرپشن پنجاب! یہ فیصلہ بہرحال ہونا چاہیے مگر مجھے محسوس ہوتا ہےجس دن اینٹی کرپشن شیریں مزاری اور ان کے خاندان کے

لوگوں کو طلب کرے گا اس دن عمران خان سٹیج پر کھڑے ہو کر یہ ضرور کہیں گے ’’دیکھو پاکستانیو! یہ لوگ شیریں مزاری کے خلاف بھی 51 سال پرانا کیس لے آئے ہیں‘‘ اور لوگ کپتان کی اس بات پر بھی یقین کر لیں گے لہٰذا میری نئی حکومت سے درخواست ہے آپ کم از کم یہ تفتیش ضرور مکمل کرا دیں‘ اس سے پہلے کہ ڈی جی اینٹی کرپشن سمیت پوری تفتیشی ٹیم کو بھی غائب کر دیا جائے اور ثبوتوں کے صندوق کو بھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔