Categories
News

بلاول بھٹو نے حلف کیوں نہیں اٹھایا؟ سلیم صافی کا تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک/این این آئی )سینئر اینکر پرسن و تجزیہ کار سلیم صافی نے بلاول بھٹوکے حلف نہ اٹھانے پر تہلکہ خیز انکشاف کر دیا ۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر سلیم صافی نے کہا ہےکہ ’’کئی سال سےعمران خان

لاڈلےبنےہوئےتھے،اب بلاول بھٹولاڈلےبن گئے۔ جھوٹ ہےکہ وہ اتحادیوں کوحق دلوانےکی وجہ سےحلف نہیں اٹھارہےہیں۔ دوسروں سےمنفرددکھنےکیوجہ سےانہوں نےحلف نہیں اٹھایالیکن وہ جب بھی حلف اٹھائیں گےتوشہبازکی ٹیم کاممبربن جائیں گے۔ شرماتےہیں توپھر بہترہےکہ وزیرہی نہ بنیں۔واضح رہے کہ چیئر مین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کی کابینہ میں شمولیت پر پیپلزپارٹی میں اختلافات برقرار ،بلاول بھٹو کی وفاقی کابینہ میں شمولیت کا فیصلہ تاحال نہ ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق ن لیگ بلاول کی بطور وزیر خارجہ کابینہ میں شمولیت کی خواہشمند ہے ،پی پی کی سینئر قیادت بلاول بھٹو کی کابینہ میں شمولیت کے مخالف ہیں ۔ سینئر ز کا موقف ہے کہ ذوالفقارعلی بھٹو جب وزیر خارجہ بنے تب پی پی نہیں تھی، ،بلاول بھٹو پارٹی سربراہ، اتحادی حکومت کا وزیر نہیں بننا چاہیے۔ ذرائع کے مطابق آصف زرداری بلاول بھٹو کی اتحادی حکومت میں بطور وزیر شمولیت کے مخالف ہیں۔دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اٹھارویں ترمیم کو 12 سال مکمل ہونے کے موقع پر کہا ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم پاکستان کے جمہوریت پسند قوتوں کی عوام دوستی اور پاکستان پسندی کا مظہر ہے،اٹھارویں ترمیم کے بعد کوئی بھی آئین شکن اپنی مرضی کا نقاب نہیں لگا سکتا،پاکستان کی عوام دستور کی پاسداری اور جمہوریت کا تسلسل چاہتے ہیں،آئین کو کاغذوں کا پلندہ قرار دینے والی سوچ چاہتی ہے کہ پاکستان افراتفری کا شکار رہے،پیپلز پارٹی اٹھارویں ترمیم پر مکمل عملدرآمد کے لیئے سرگرم عمل ہے، حتمی فتح عوام ہی کی ہوگی۔ اپنے بیان میں انہونے کہاکہ صدر آصف علی زرداری کی زیرِ قیادت حکومت

کے دوران اٹھارویں ترمیم کی منظوری تاریخ ساز کارنامہ تھا۔ انہوںنے کہاکہ اٹھارویں آئینی ترمیم پاکستان کے جمہوریت پسند قوتوں کی عوام دوستی اور پاکستان پسندی کا مظہر ہے۔انہوںنے کہاکہ اٹھارویں آئینی ترمیم نے 1973ع کے متفقہ آئین کی روح کو بحال کیا،صدر آصف علی زرداری نے اٹھارویں ترمیم کے تحت صدر کو حاصل تمام ایگزیکٹو اختیارات پارلیمان کو دئیے۔ انہوںنے کہاکہ اٹھارویں ترمیم کے نتیجے میں صوبوں کو ان کا حق ملا، وفاق مضبوط ہوا،اٹھارویں ترمیم نے صوبہ خیبرپختونخواہ کو اس کی شناخت دی۔بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ اٹھارویں ترمیم کے بعد کوئی بھی آئین شکن اپنی مرضی کا نقاب نہیں لگا سکتا۔انہوںنے کہاکہ پاکستان کی عوام دستور کی پاسداری اور جمہوریت کا تسلسل چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ آئین کو کاغذوں کا پلندہ قرار دینے والی سوچ چاہتی ہے کہ پاکستان افراتفری کا شکار رہے تاکہ اس سوچ کے پیروکار چند افراد ختم نہ ہونے والی افراتفری و انتشار کے دوران اپنے مفادات سمیٹتے رہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ پیپلز پارٹی اٹھارویں ترمیم پر مکمل عملدرآمد کے لیئے سرگرم عمل ہے، حتمی فتح عوام ہی کی ہوگی۔
کئی سال سےعمران خان لاڈلےبنےہوئےتھے،اب بلاول بھٹولاڈلےبن گئے۔ جھوٹ ہےکہ وہ اتحادیوں کوحق دلوانےکی وجہ سےحلف نہیں اٹھارہےہیں۔ دوسروں سےمنفرددکھنےکی وجہ سےانہوں نےحلف نہیں اٹھایالیکن وہ جب بھی حلف اٹھائیں گےتوشہبازکی ٹیم کاممبربن جائیں گے۔ شرماتےہیں توپھر بہترہےکہ وزیرہی نہ بنیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔