Categories
Uncategorized

شاداب خان انجرڈ، محمد نواز انجرڈ، عماد وسیم جو کہ ون ڈے کرکٹ کےبہترین آل راؤنڈر ہیں انہیں سلیکٹ کیوں نہ کیا گیا؟ کئی سوال کھڑے ہوگئے

پاکستان کے وائٹ بال کے نائب کپتان شاداب خان کو موجودہ ون ڈے اور ٹی ٹونٹی سیٹ اپ میں سب سے قیمتی کھلاڑیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے لیکن ان کی فٹنس نے ان کے انتخاب پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

پاکستان میں کرکٹ ماہرین کا خیال ہے کہ حقیقی مسائل کے باوجود شاداب خان اور دائیں ہاتھ کے تیز گیند باز حسن علی کو آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے اور ٹی ٹونٹی سکواڈ میں شامل کرنے کا بابر اعظم کا مطالبہ ہے۔

شاداب خان کی پلیئنگ الیون میں موجودگی ٹیم کے لیے ضرور فرق رکھتی ہے لیکن جب ان کی فٹنس انہیں کھیلنے کی اجازت نہیں دیتی تو انتظامیہ کو عماد وسیم کی طرح کسی اور آپشن پر جانا چاہیے۔ سلیکشن کمیٹی کی جانب سے بائیں ہاتھ کے آرتھوڈوکس سپنر کو تاریخی سیریز سے باہر کرنے کے بعد یہ بحث کا موضوع تھا تاہم وائٹ بال کرکٹ میں عماد کی کارکردگی خاص طور پر ون ڈے میں بری نہیں ہے۔

دونوں آل راؤنڈرز کے درمیان بیٹنگ کا تقابل کیا جائے تو عماد نے 40 اننگز میں بیٹنگ کرتے ہوئے 42.86 کی اوسط سے 986 رنز بنائے ہیں جب کہ انہوں نے اپنا سٹرائیک ریٹ 100 سے زیادہ برقرار رکھا ، انہوں نے 5 نصف سنچریاں بھی سکور کررکھی ہیں۔ دوسری جانب نائب کپتان شاداب خان نے 27 ون ڈے اننگز میں بیٹنگ کرتے ہوئے 3 نصف سنچریوں کی مدد اور 24.11 کی اوسط سے 434 رنز بنائے ہیں جب کہ ان کا سٹرائیک ریٹ 71.38 ہے جو ان کی پوزیشن کے لحاظ سے اچھا نہیں ہے۔

اپنے 55 بین الاقوامی میچوں میں عماد نے 44.47 کی اوسط سے 44 وکٹیں حاصل کیں، ان کی بہترین بائولنگ پرفارمنس 14 رنز کے عوض 5 وکٹیں لینا رہی ہے۔ شاداب خان نے 46 اننگز میں 32.06 کی اوسط سے مجموعی طور پر 62 وکٹیں حاصل کی ہیں، ان کی بہترین باؤلنگ 28 رنز کے عوض 4 وکٹیں لینا رہی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ عماد شاہین شاہ کے ساتھ نئی گیند شیئر کرتے ہیں اور بعض اوقات اہم کامیابیاں حاصل کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔