Categories
Uncategorized

شرم! پی سی بی نے تیز دھوپ میں شائقین کے لیے پانی تک کا انتظام نہیں کیا!

آسٹریلوی ٹیم کے 24 سال بعد دورہ پاکستان نے کافی ہنگامہ کیا۔ واضح طور پر راولپنڈی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ کے پہلے دو دن بعد ہی ہائپ ختم ہو گئی۔ ٹورنامنٹ پنڈی اسٹیڈیم میں شروع ہوا جہاں پچ مردہ تھی اور بلے بازوں کو بہت پسند کیا گیا۔ گیند بازوں کو پچ سے تھوڑی سی مدد بھی نہیں ملی۔

پچ اور پاکستان کا نقطہ نظر

دنیا بھر میں اخبارات، سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا میں پچ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین سامنے آگئے اور راولپنڈی میں بنائی گئی پچ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ہم اوس سے بالواسطہ ڈر گئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایسی پچ بنانے کی کوشش کریں گے جو کراچی میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں نتیجہ نکالے۔

مقام بدلا، ٹیسٹ بدلا، دونوں پلیئنگ الیون بھی تبدیل ہوئیں لیکن جو چیز نہیں بدلی وہ پاکستانی ٹیم کا نقطہ نظر اور پچ ایک خاص مقام تک تھی۔ پچ راولپنڈی میں بنائی گئی پچ سے قدرے بہتر ہے یا حالات اور موسم کی وجہ سے سطح پر دراڑیں پڑ رہی ہیں اور پی سی بی کراچی میں بھی پنڈی کی پچ کو نقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم کو ڈی میرٹ پوائنٹ ملنے کے باوجود پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس سے سبق نہیں سیکھا۔ پچ میں گھاس تھی جسے کیوریٹرز نے میچ سے ایک دن پہلے پھاڑ دیا تھا، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ بھی اسی دفاعی ذہنیت کے ساتھ آیا ہے۔

یہاں تک کہ اگر ہم مساوات سے پچ کو گھٹا دیں تو خود ٹیم پاکستان کا نقطہ نظر بہت تشویشناک تھا۔ پاکستان نے پہلے دن چائے کے بعد منفی خطوط پر باؤلنگ شروع کی، یہ ایک بزدلانہ انداز تھا، ہمارے پاس اس طرح کی کئی مثالیں بھی ہیں جو دوسرے ٹیسٹ کے دوران ٹیم پاکستان کی بزدلی کو ظاہر کرتی ہیں۔ بابر اعظم کی کپتانی بھی دھیمی اور دفاعی تھی، وہ درست فیصلے نہیں کرتے تھے اور باؤلنگ روٹیشن میں بھی بہت خراب تھے۔

پی سی بی کی بدانتظامی!

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اپنے دفاعی انداز کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ پی سی بی نے نیشنل اسٹیڈیم کراچی کی صورتحال کو مکمل طور پر خراب کر رکھا ہے۔ کچھ اپڈیٹس کے مطابق کچھ انکلوژرز میں پانی بھی دستیاب نہیں تھا۔ یہ بات مزاحیہ ہے کہ اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے والے 10 ہزار کے قریب لوگوں کے لیے پانی دستیاب نہیں تھا کیونکہ کراچی میں درجہ حرارت 40 ڈگری کے قریب تھا۔

یہ بہت بری بات تھی کہ پی سی بی کو گراؤنڈ میں تماشائیوں کی ضرورت تھی اور وہ بڑی تعداد میں آئے اور گھنٹوں میچ دیکھتے رہے۔ پھر بھی انہیں اتنے گرم پانی میں پینے کو پانی نہیں ملا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس معاملے پر تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ یہ بات یاد رکھیں کے یہ کنفرم نہیں بلکے کچھ رپورٹس ہیں

رمیز راجہ کا دفاعی انداز عروج پر!

دفاعی نقطہ نظر یہیں نہیں رکا! پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین رمیز راجہ نے اب کمنٹیٹرز کو حکم دیا ہے کہ وہ راولپنڈی کی پچ پر بات نہ کریں۔ ذرائع کے مطابق پی سی بی کے سربراہ نے اب کمنٹیٹرز سے کہا ہے کہ وہ کمنٹری کریں اور نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں بنائی گئی پچ پر بھی بات نہ کریں۔

مداح اب واقعی رمیز راجہ کے خلاف جا رہے ہیں اور مایوس ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ رمیز راجہ استعفیٰ دیں یا اپنے وہ وعدے پورے کریں جو انہوں نے چیئرمین پی سی بی بننے سے پہلے کیے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔