Categories
Uncategorized

کیا کبھی عشق کیا؟ اینکرکے سوال پر محمد رضوان کا دلچسپ اعتراف

قومی ٹیم کے وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان کا شمار دنیا کے بہترین بلے بازوں میں کیا جاتا ہے لیکن کرکٹ کے میدان سے ہٹ کر بھی ان کی ذاتی زندگی سے متعلق کچھ دلچسپ چیزیں سوشل میڈیا پر سامنے آتی رہتی ہیں۔

رضوان کی سوشل میڈیا انگیجمنٹ پر بات کی جائے تو اس بات کا اعتراف وہ خود کرچکے ہیں کہ انہیں سوشل میڈیا سے متعلق زیادہ آگہی نہیں، ان کے پاس واٹس ایپ کے علاوہ کوئی ایسا اکاؤنٹ نہیں جسے سے وہ خود دیکھتے ہوں جب کہ ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی ان کے بھائی چلاتے ہیں اس کے علاوہ ان کا کوئی اپنا اکاؤنٹ نہیں۔ اب سوشل میڈیا پر رضوان کا ایک ویڈیو انٹرویو کا کلپ وائرل ہورہا ہے جس میں انہوں نے لو میرج سے متعلق انکشاف کیا۔

انٹرویو میں میزبان نے رضوان سے سوال کیا کہ کیا کبھی انہیں عشق ہوا ؟اس کے جواب میں رضوان نے مسکراتے ہوئے اعتراف کیا کہ ان کی محبت کی شادی ہے۔دوسری جانب رضوان کی شادی اور اہلیہ سے متعلق تصاویر اب تک منظر عام پر نہیں آئیں ہیں تاہم سوشل میڈیا پر یہ اطلاعات زیرگردش ہیں کہ رضوان کی دو بیٹیاں ہیں۔ علاوہ ازیں قومی کرکٹر محمد رضوان نے کہا کہ گورے جب ہم سے ہمارے دین کے بارے میں پوچھتے ہیں تو ان کو سکون ملتا ہے،ہمیں اپنے دین پر شرمانا نہیں چاہیے بلکہ فخر کرنا چاہیے،پاکستان سپر لیگ میں ٹم ڈیوڈ اور ڈیوڈ ولی نے مجھ سے میرے دین کے بارے میں سوالات کیے،آسٹریلین فاسٹ بالر جوش ہیزل وڈ سب سے مشکل بالر ہیں۔

ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فاسٹ بالرز میں مجھے ہیزل وڈ مشکل لگے ہیں جبکہ کیریئر کے ابتدائی دور میں ڈومیسٹک کرکٹ میں اسپنر ذوالفقار بابر مشکل لگتے تھے، اس کے بعد بنگلہ دیشی اسپنر شکیب الحسن بھی مشکل لگے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں کوئی بھی قربانی کے بغیر نمبرون نہیں بن سکتا، ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں انڈر16 سے براہ راست قومی ٹیم میں کھیل لوں، ایسی صورت میں مجھے درمیان کی مشکلات کا پتہ ہی نہیں ہو گا اور کل کو کوئی بچہ مجھ سے پوچھے گا تو میں اسے نہیں بتا سکوں گا۔

پاکستان سپر لیگ میں ملتان سلطانز کے کپتان نے مزید کہا کہ جب مجھ پر مشکلات آئیں گی تو مجھے تجربہ ملے گا اور اسی تجربے سے آدمی کامیاب انسان بنتا ہے البتہ سب سے اہم چیز یہ ہے کہ آپ کا یقین کتنا ہے۔ایک سوال کے جواب میں رضوان نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے دین پر شرمانا نہیں چاہیے اور نبی اکرمﷺ اور دین کے طریقوں پر فخر کرنا چاہیے کیونکہ گورے جب ہم سے اس بارے میں پوچھتے ہیں تو ان کو سکون ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسلمانوں کو گوروں کے سامنے نماز پڑھتے اور اذان دیتے ہوئے عجیب لگتا ہے کہ یہ لوگوں کے سامنے کیا کررہا ہے لیکن ان گوروں سے پوچھیں کہ جب ہم یہ کررہے ہوتے ہیں تو انہیں سکون مل رہا ہوتا ہے اور وہ ہم سے پوچھ رہے ہوتے ہیں۔

انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان سپر لیگ میں ٹم ڈیوڈ اور ڈیوڈ ولی نے مجھ سے دین کے بارے میں کئی سوالات کیے، یہاں تک کہ جو سجدے کی وجہ سے پیر پر نشان بن جاتا ہے تو اس بارے میں بھی ڈیوڈ ولی نے مجھ سے پوچھا کہ کیا یہ نماز کی وجہ سے بنا ہے، انہیں ہمارے دین سے لگا ؤہے لیکن ہمیں سب کے سامنے کرنے میں شرم آتی ہے۔ انہوں نے قوم کے نام پیغام میں کہا کہ آپ ہماری کرکٹ ٹیم کے بارے میں اچھی امید رکھیں اور اگر ہم بیٹنگ کررہے ہوں تو دل میں یہ ڈر نہیں لائیں کہ یہ آؤٹ ہو جائے گا، ہمارے بالر کے بارے میں بھی ایسا نہ سوچیں کیونکہ وہ بہت بہادر بالرز ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہمارے تمام پاکستانی دنیا میں نمبر ایک بننے کی کوشش کریں، جب ہم سب مل کر نمبرایک کا سوچیں گے تو ہماری پاکستانی قوم نمبر ایک بن ہی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔