Categories
Uncategorized

پی ایس ایل میں ناکامی کے بعدراشد لطیف بابر اعظم کے حق میں کھڑے ہو گئے ، آسٹریلیا کے خلاف سیریز سے قبل نایاب مشورہ بھی دے دیا

قومی ٹیم کے سابق وکٹ کیپر راشد لطیف نے کہا ہے کہ کراچی کنگز کی شکستوں کا ذمہ دار بابر اعظم کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا، ڈرافٹ میں ہی کمزور اسکواڈ منتخب ہوا۔راشد لطیف نے کہا کہ بہت زیادہ میچز ہارنے کی وجہ سے بابر اعظم دباؤ میں ہوں گے مگر میں انہیں سپورٹ کرتا ہوں، اگر آسٹریلیا کیخلاف ہوم سیریز میں نتائج اچھے نہیں بھی رہتے تو بھی کسی افراتفری کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں، پی سی بی کو بابر اعظم جبکہ کپتان کو کھلاڑیوں کو لے کر چلنا ہے،افراتفری سے کرکٹرز اور ملک کا نقصان ہوگا۔

ایک انٹرویو میں راشد لطیف نے کہا کہ سب سے پہلے تو فرنچائزز کو ڈرافٹ کو سنجیدگی سے لینا چاہیے، کراچی کنگز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز دونوں نے سلیکشن کے عمل میں پروفیشلزم کا مظاہرہ نہیں کیا کیونکہ اس کی تیاری ایک ماہ قبل کرنا پڑتی ہے۔انہوں نے کہا کہ دیکھنا پڑتا ہے کہ ٹیم کو پاور پلے کیلیے کتنے ہٹرز،درمیانی اوورز کیلیے بیٹرز اور رسٹ اسپنرز، چائنا مین یا لیگ سپنرز،140کی رفتار سے بولنگ کرنے والے 2پیسرز کی ضرورت ہے، کراچی کنگز کے پاس ٹاپ تھری میں صرف شرجیل خان کے سوا کوئی پاور ہٹر نہیں تھا،کئی ایسی غلطیاں ہوئیں،ہوسکتاہے کہ آئندہ نہ دہرائیں۔

ایک سوال پرسابق کپتان نے کہا کہ فرنچائز اور قومی ٹیم کی قیادت میں بہت فرق ہے،پاکستان کے کپتان کو اپنی ٹیم بنانے کا اختیار ہوتا ہے،ایچ بی ایل پی ایس ایل میں معاملہ مختلف ہے،کوچ، مالکان اور کئی ہیوی ویٹس کی موجودگی میں کپتان اپنی رائے پر زور نہیں دے سکتا،اس کو کسی بھی صورتحال میں کھیلنا ہی ہوتا ہے۔میں بابر اعظم کی کپتانی کے حوالے سے کچھ نہیں کہنا چاہتا کیونکہ ڈرافٹ کے دن ہی کراچی کنگز بہت کمزور ٹیم لگ رہی تھے،کپتان بڑا کھلاڑی بھی ہومگر انجریز اور دیگر مسائل ہوں تو کامیاب نہیں ہوسکتا،کراچی کے محمد عامر اور محمد الیاس انجرڈ ہوئے،عماد وسیم کو ابتدا میں کورونا ہوگیا، کرس جورڈن تاخیر سے پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ میں بابر اعظم کو مکمل سپورٹ کرتا ہوں،لوگوں کو پی ایس ایل کی بنیاد پر ان کی قائدانہ صلاحیتوں کا اندازہ نہیں لگانا چاہیے،انہیں آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے ٹیموں کا کپتان نامزد کیا گیا تھا،عام طور پر تنقید کا ایک رجحان چل پڑتا ہے۔ خاص طور پر سوشل میڈیا پر سوالات اٹھانے اور دیگر فرنچائزز کی کپتانوں سے موازنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے،جیسا کہ ویراٹ کوہلی اور روہت شرما کا بھی موازنہ کیا جاتا رہا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔