Categories
Uncategorized

قومی ٹیم کے ان دو کھلاڑیوں پر لڑکوں پرتھوڑی سی محنت کی جائے تو وہ عبدالرزاق جیسے آل راؤنڈر بن سکتے ہیں۔۔ شاہد آفریدی

سابق کپتان قومی کرکٹ ٹیم شاہد آفریدی ویسٹ انڈیز کیخلاف شاندار کارکردگی پر محمد رضوان اور محمد وسیم کے معترف ہوگئے۔ کہتے ہیں کہ انہیں صبر کا صلہ ملا، اس سال آخری پی ایس ایل کھیلوں گا، مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہر سابق کرکٹر کو پاکستان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کیوں کرنی ہے، سابق کرکٹرز سے گراس روٹ لیول پر کام لینا چاہئے، انڈر 14 اور 16 کے لڑکوں کو اپنی زندگی کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔

سابق کپتان اور مایہ ناز بلے باز شاہد آفريدی سماء فيملی کا حصہ بن گئے، انہوں نے بطور ڈائریکٹر اسپورٹس سماء ٹی وی جوائن کرلیا، سماء ٹی وی کے نئے اسپورٹس شو ’’گیم سیٹ میچ‘‘ کے افتتاحی پروگرام میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے زندگی کے چیلنجز پر روشنی ڈالی۔

شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ مجھے پی سی بی سے پیسے نہیں چاہئیں، میرے لئے بڑی بات ہے کہ میں انڈر 14 اور 16 کے لڑکوں کے ساتھ اپنا تجربہ شیئر کروں، انہیں بتاؤں کہ جب میں ان کی عمر کا تھا تو میں کس طرح بس سے لٹک کر گراؤنڈ جاتا تھا، انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ کتنے مشکل حالات میں کرکٹ کھیلی، ہمارے پاس سہولیات نہیں تھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں لڑکوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ میری زندگی میں چیلنجز آئے ان سے کس طرح لڑا، میرے والدین کرکٹ کے خلاف تھے، لیکن میں نے اپنا ایک ہدف مقرر کیا کہ کرکٹر بننا ہے، کرکٹر بننے کا خواب 7 سال کی عمر سے دیکھا۔

شاہد آفریدی کا کہنا ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آتا کہ ہر سابق کرکٹر کو پاکستان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کیوں کرنی ہے، کوچنگ ایک بالکل مختلف چیز ہے، یہ نہیں کہ 10، 15 سال کرکٹ کھیل لی اور کوچ بن گئے۔

انہوں نے بتایا کہ باب وولمر نے 15 سال صرف کوچنگ پڑھی تھی، ان کی سوچ بالکل مختلف تھی، اس کے بعد انہوں نے ٹیموں کو کوچ کرنا شروع کیا، انہوں نے مجھے بہت سپورٹ کیا، میجمنٹ کا مطلب کھلاڑیوں پر دباؤ ڈالنا نہیں۔

بوم بوم آفریدی نے کہا کہ پہلے گراس روٹ لیول کی کرکٹ بہت مضبوط تھی، میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو چاہئے کہ ہمارے بہترین سابق کرکٹرز سے گراس روٹ لیول پر کام لے۔

محمد رضوان کی تعریف کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے کہا کہ رضوان کو صرف ان کے صبر کا صلہ ملا ہے، ان کی بطور انسان کچھ عادتیں بہت پسند ہیں، وہ دن رات محنت کرتا تھا، انہوں نے سوشل میڈیا پر نہیں کرکٹ پر توجہ دی۔

بوم بوم آفریدی کا کہنا ہے کہ رضوان اور سرفراز نیچے کے پلیئرز نہیں، اگر انہیں کھیلنا ہے تو اوپر جاکر ہی رنز کرسکتے ہیں، محمد وسیم اور حسن علی جیسے لڑکوں پر تھوڑی سی محنت کی جائے تو وہ عبدالرزاق جیسے آل راؤنڈر بن سکتے ہیں

شاہد آفریدی نے پاکستان ویسٹ انڈیز کرکٹ سیریز میں کراچی نیشنل اسٹیڈیم میں شائقین کے نہ آنے کا ذمہ دار مس مینجمنٹ کو قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹنگ کا فقدان تھا، ٹکٹس آن لائن رکھی گئیں ہر شخص آن لائن ٹکٹ نہیں خرید سکتا۔

سابق کپتان کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل پاکستان کا بڑا برانڈ ہے، تمام ٹیموں کو میں اون کرتا ہوں، یہ آخری پی ایس ایل ہوگا، ندیم عمر سے کہا تھا کہ آخری پی ایس ایل کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی طرف سے کھیلوں گا۔

شاہد آفریدی نے بتایا کہ میں نے بین الاقوامی طور پر پہلا دورہ ویسٹ انڈیز کا کیا تھا، محسوس ہوتا ہے کہ بیٹنگ میں اور بہتری لاسکتا تھا مگر نہیں ہوا، اپنی کرکٹ بولنگ سے شروع کی، فاسٹ بولر بننا چاہتا تھا، کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں میں بھی ٹیلنٹ موجود ہے-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔