Categories
Uncategorized

ایک لونڈی کا اللہ سے عشق کا ایمان افروز واقعہ

بازار میں ایک کنیز عورت (لونڈی) فرخت ھو رھی تھی۔محمد بن حسین البغدای بھی اسی بازارمیں گے ھو ئے تھے تو اَپ نے اس کنیز عورت کو خرید لیا۔لوگوں نے کہا پاگل سی ھے۔انھوں نے کہا ٹھیک ھے کوئی بات نیئں اورگھر میں لے اَئے۔ رات کو آدھی رات کے بعد آنکھ کھلی ۔ تو وہ لونڈی وہ کنیز عورت مصُلے پہ بیٹھی آنکھوں سے آنسو بہہ رھے تھے۔ رو رو کے سینہ گھٹ رھا۔

اور اللہ سے کہہ رھی ھے ۔اے اللہ وُہ محبت جو تجھے مجھ سے ھے۔ حالانکہ کہنا تو یہ چاھیے تھا کہ اے اللہ وہ محبت جو مجھے تجھ سے ھے۔ لیکن اُس نے اللہ سے ھاتھ اُٹھاکے ۔ کہ اے اللہ وُہ محبت جو تجھے مجھ سے ھے میں اُس کے واسطےتجھ سے سوال کرتی ھوںمحمد بن حسین البغدای سن رھے تھے تو اُنھوں نے ٹوکا کہا اے لڑکی کیا کہہ رھی ھے تُو ۔یوں کہہ اے اللہ وہ محبت جو مجھےتجھ سے ھے تو اس نے کہا چپ کرو اگر اُس کو مجھ سے محبت نہ ھوتی تو وہ اَدھی رات کو مجھے یہاں نہ بیٹھاتا اور تجھے وھاں نہ سُلاتا۔ اٌس کو مجھ سے محبت ھے تو اُس نے مجھے میری نیند سے اُٹھا کے مصلٰے پہ کھڑا کر دیاپھر کہنے لگی اے اللہ اب تو تیری میری محبت کا راز فاش ھو گیا لوگوں کو پتہ چل گیا کہ

ھم محب و محبوب ھیں اے اللہ اب مجھے اپنا وصال دےدے مجھے اپنا ملاپ دےدے اپنے پاس بلا لے چیخ کی اَواز اَئیجاری ہے۔۔۔ اور جان نکل گئی تو فرماتے ھیں مجھے بڑا غم ھوا میں اٹھا اُس کے کفن کا بندوبست کرنے کیلئے جب میں کفن لے کے اَیا تو دیکھا کفنی کفنائی پڑی ھوئی سبز کفن میں لپٹی اور اُس کے اُوپر نُورانی الفاظ سے لکھا ھوا عَلٰی اِنُا اَولِیٰاءَاللُہِ لَا خَوف عَلَیّہِمْ وَلَا ھُمْ یَخْزَنٌوْنْ سن لو اللہ کے دوستوں کو نہ دنیا میں غم ھے نہ آخرت میں خوف ھے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے