Categories
Breaking News

40 فیصد تعلیم یافتہ خواتین ملک بھر میں بے روزگار ہیں۔

اسلام آباد (دنیا نیوز) ہائی کورٹ میں چپراسی کی نوکری کے لیے آنے والی درخواستیں ملک میں بے روزگاری کی سنگین یاد دہانی ہیں۔ لیکن ان ملازمتوں کے خواہشمند افراد میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جن کے پاس ایم فل کی ڈگریاں ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ ملاقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ ملک میں تعلیم یافتہ خواتین کی ایک بڑی تعداد بے روزگار ہے۔

میٹنگ کے دوران کمیٹی کے چیئرمین نے حکام سے ملک میں بے روزگار لوگوں کے حوالے سے تفصیلات مانگیں۔

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس نے بے روزگار افراد سے متعلق کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد 6.5 فیصد ہے ، جبکہ ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد 16 فیصد ہے ، 24 فیصد تعلیم یافتہ ملک میں مرد بے روزگار ہیں اور ملک میں 40 فیصد تعلیم یافتہ خواتین بے روزگار ہیں۔

حکام کے مطابق ملک میں بے روزگار افراد کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہے۔ ہائی کورٹ میں ایک چپراسی کی نوکری کے لیے ڈیڑھ لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں۔ حکام کے مطابق جنہوں نے چپراسی کی نوکری کے لیے درخواست دی ان میں ایم فل بھی شامل ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے