Categories
News

طالبان نے کابل فتح کر لیا‎‎

اسلام آباد، کابل (نیوز ڈیسک) 20 سال سے جاری جنگ اپنے انجام کو پہنچ گئی، اس جنگ پر 2000 ارب ڈالرز سے زائد خرچ ہو گئے لیکن اس کے باوجود امریکہ اور اس کے اتحادی طالبان سے جنگ نہ جیت سکے اور اس طرح آخر کار طالبان نے کابل فتح

کر لیا،اس جنگ میں کئی قیمتی بے گناہ جانیں ضائع ہو ئیں،طالبان کابل شہر میں داخل ہو گئے ہیں اور انہوں نے صدارتی محل کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف امریکہ کی جنگ 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد سات اکتوبر 2001 کو شروع ہوئی تھی اور یہ امریکہ کی تاریخ کی سب سے طویل عرصے تک بیرونِ ملک جاری رہنے والی جنگ تھی۔امریکہ کے محکمہ دفاع پینٹاگون کے اعداد و شمار کے مطابق سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دورِ حکومت میں جب افغان جنگ اپنے عروج پر تھی تو افغانستان میں تقریباً 98 ہزار امریکی فوجی تعینات تھے۔ بعد ازاں یہ تعداد کم ہوتی گئی۔دسمبر 2001 میں 38 ممالک کا عسکری اتحاد نیٹو بھی اس جنگ میں امریکہ کے ساتھ شریک ہوا تھا لیکن افغانستان میں غیر ملکی فوجیوں کی تعداد میں امریکی فوجی سب سے زیادہ رہے۔فروری 2020 میں جب امریکہ نے طالبان کے ساتھ فوجی انخلا کے لیے امن معاہدے پر دستخط کیے تو پینٹاگون کے مطابق افغانستان میں 14 ہزار امریکی فوجی موجود تھے۔یکم مئی 2021 امن معاہدے کے مطابق فوجی انخلا کی پہلی ڈیڈ لائن تھی جسے امریکی صدر جو بائیڈن نے بڑھا کر 11 ستمبر 2021 کر دیا تھا۔ اس وقت تک افغانستان میں نو ہزار 500 غیر ملکی فوجی موجود تھے جن میں امریکی فوجیوں کی تعداد 2500 تھی۔افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے معاون مشن کے مطابق صرف 2009 سے 2020 کے درمیان 38 ہزار سے زائد افغان شہریوں کی جانیں گئیں اور یہ سب عام شہری تھے۔اسی عرصے کے دوران 70 ہزار افراد زخمی بھی ہوئے۔اس طرح اس جنگ کا اختتام طالبان کی فتح سے ہوا، اشرف غنی نے بھی بڑے بڑے دعوے کئے

لیکن وہ بھی افغانستان چھوڑ کر دوسرے ملک فرار ہو گئے۔ تازہ ترین صورتحال کے مطابق اب طالبان نے کابل میں صدارتی محل پر قبضہ کر لیا ہے اور افغانستان کے تمام بارڈرز کا کنٹرول بھی سنبھا ل لیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے