Categories
News

سپریم کورٹ نے شوگر ملز کو کتنے روپے پر چینی فروخت کرنے کی مشروط اجازت دیدی ؟بڑی خبر

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے چینی کی قیمت مقرر کرنے سے متعلق حکومتی اپیل پر سماعت کے موقع پر شوگر ملز کو مقرر کردہ ایکس مل ریٹ پر چینی فروخت کی مشروط اجازت دیدی ، کیس لاہور ہائی کورٹ کو واپس بھجواتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ

کو درخواستوں پر 15 دن میں فیصلے کرنے کا حکم دیدیا۔ عدالت عظمیٰ میں حکومتی اپیل پرسماعت جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دئیے کہ کیا حکومت کے پاس چینی کی قیمت مقرر کرنے کا مکمل اختیار ہے؟ چینی کی قیمت کا تعین ایک فارمولا کے تحت ہوتا ہے،شوگر ملز کا موقف ہے کہ حکومت نے 104 روپے پر چینی امپورٹ کی،امپورٹ کی گئی چینی حکومت سبسڈی دیکر 89 روپے میں فروخت کرے گی،یہ بات درست ہے یا غلط، عدالت نے اپنے اختیارات کو دیکھنا ہے،عدالت نفع نقصان اور قیمتوں کا تعین نہیں کر سکتی،عدالت کے پاس قیمتوں میں تعین جیسے معاملے میں مداخلت کی کوئی بنیاد نہیں،لاہور ہائی کورٹ کا عبوری حکم ختم کرکے کیس ریمانڈ کرینگے،مناسب ہوگا کہ قیمتوں میں فرق کی رقم کسی ٹرسٹی کے پاس رہے،کیس کا فیصلہ ہونے تک رقم ٹرسٹی کے پاس رہے۔جسٹس سجاد علی شاہ نے ایک موقع پر سوال اٹھایا کہ حکم امتناع ختم ہونے سے ملز کا نقصان ہوا تو کیا ریاست ازالہ کرے گی؟وکیل شوگر ملز مالکان نےموقف اپنایا کہ عبوری حکم ختم کیا گیا تو اس کا نقصان ہوگا،عبوری حکم ختم ہوا تو سارسٹاک اٹھا لیا جائے گا،قیمتوں میں فرق پر مبنی رقم ڈپٹی رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ کو جمع کرائیں گے۔دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ حکومت کا ایکس مل ریٹ 84 اور شوگر مل مالکان کا 97 ہے،حکومت نے چینی کی ایکس مل قیمت مقرر کی تھی،لاہور ہائی کورٹ نے حکومت کی ایکس مل قیمت پر حکم امتناع جاری کیا،قیمت مقرر کرنے کا اختیار حکومت کا ہے،حکومت عوام کے حقوق کی محافظ ہے،عبوری

حکم ختم نہ ہوا تو مل مالکان مہنگی چینی فروخت کرینگے۔عدالت عظمیٰ نے اس موقع پر قرار دیا کہ لاہور ہائی کورٹ میں چینی کی قیمت کا کیس زیرالتواء ہے،ہائی کورٹ نے حکومت کیمقررہ قیمت کیخلاف یکطرفہ حکم امتناع جاری کیا،عدالت کی ذمہ داری ہے کہ قانونی نقطے پر فیصلہ کرے،قیمتوں، نفع نقصان کا تعین کرنا عدلیہ کی ذمہ داری نہیں ہے،ہائی کورٹس کی قیمتوں کے معاملے میں مداخلت غیر متعلقہ حدود میں داخلے کے مترادف ہے،عدلیہ کی غیر متعلقہ حدود میں مداخلت شرمندگی کا باعث بنتی ہے،شوگر ملز کی طرف سے صرف مچلکےجمع کرانا کافی نہیں،متعلقہ کین کمشنر چینی کے سٹاک اور فروخت کا ریکارڈ مرتب رکھیں،شوگر ملز ایکس مل ریٹ میں فرق پر مبنی رقم رضاکارانہ طور پر جمع کرائیں گی،حکومت اور شوگر ملز مالکان کی مقرر کردہ ریٹ میں فرق پر مبنی رقم ہائی کورٹ میں جمع ہوگی،عدالت عظمیٰ نے شوگر ملز کو مقرر کردہ ایکس مل ریٹ پر چینی فروخت کی مشروط اجازت دیتے ہوئیکیس لاہور ہائی کورٹ کو واپس بھجواتے ہوئے کیس نمٹا دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے